خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 289
خطابات طاہر جلد دوم 289 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۲ء کی طرف بلائیں اور اس راہ میں اپنی جان، مال، عزت اپنی اولا دوں اور اپنے سب پیاروں کو قربان بھی کر دیں تو یہ سودا گھاٹے کا سودا نہیں بلکہ نفع کا سودا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو انسان کے مظالم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ظلموں کی جو اطلاع دی گئی اس کی ہیبت سے دل لرزتا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔”اے یورپ تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا تو بھی محفوظ نہیں اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔وہ واحد و یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے مکروہ کام کئے گئے اور وہ چپ رہا مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا، جس کے کان سننے کے ہوں سنے کہ وہ وقت دور نہیں۔میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں۔“ آج یہی کوشش ہے جس کو آپ نے اپنی جان، مال، عزت اور ہر طاقت کے ساتھ جاری کرنا ہے اور تمام دنیا میں پھیلانا ہے اور زمین کے کناروں تک یہ وہ پیغام ہے جسے آپ نے پہنچانا ہے۔وو 66 پر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے۔“ کتنا درد ہے ان باتوں میں ، تقدیر کے نوشتوں سے یہ مراد نہیں کہ خدا نے ظلم کا فیصلہ کر لیا تھا بلکہ تقدیر کے نوشتے اس طرح پورے ہونے تھے جیسا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ خدا ظالم نہیں ہے تم بھی ظالم نہ بنو۔اگر تم ظالم بن گئے تو تمہارے ظلم کے عواقب سے کوئی طاقت تمہیں نجات نہیں دے سکے گی۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس ملک کی نوبت بھی قریب آتی جاتی ہے۔نوح کا زمانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم بچشم خود دیکھ لو گے مگر خدا غضب میں دھیما ہے تو بہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی اور جو اس سے نہیں ڈرتا وہ مردہ ہے نہ کہ زندہ۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه: ۲۶۹) آخر پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ پیغام آپ تک پہنچا کر میں اس