خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 288
خطابات طاہر جلد دوم 288 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۲ء دعوت دینی چاہئے؟ میں نے کہا ضرور دی جائے وہ بھی خدا کا بندہ ہے ، وہ ملک بھی وہ ملک ہے جس میں خدا کے بندے بستے ہیں۔ہم خدا سے تعلق رکھنے والے ہیں تمام دنیا ہمارا وطن ہے اور مذہبی اقدار میں نیکیوں سے تعاون کرنے والے ہیں اور اس تعاون کی خاطر ہمیں پیدا کیا گیا ہے۔ہمیں یہ پیغام ہے کہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى (المائدۃ:۳) یہ پیغام نہیں ہے کہ فلاں ملک سے تعاون کرو اور فلاں ملک سے نہ کرو، فلاں رنگ سے تعاون کرو اور فلاں رنگ سے نہ کرو بلکہ تقویٰ سے تعاون کرو۔ہر اور تقوی کی بات جہاں بھی تم پاؤ تم اس کے مددگار بن جاؤ اور ہر اور تقوی کی طرف بلا ؤ اس لئے میں نے کہا مجھے اس کی قطعا کوئی پرواہ نہیں ہے کہ ان کو بلانے کے نتیجے میں ، ان کو اعزاز دینے کے نتیجے میں اگر یہ قبول فرما ئیں پاکستان کا ملاں مجھے کیا کہتا ہے۔میں نے ملاں کے حضور تو جان نہیں دینی ، میں نے جس خدا کے حضور جان دینی ہے اس کے حضور تو یہ ملاں موجود ہی نہیں ہوں گے۔جس حشر کے میدان میں میں پیش کیا جاؤں گا۔پس میں نے کہا کہ میں تو خدائے واحد و یگانہ کا پجاری، اسی کی عبادت کرنے والا ہوں۔اسی پر میری نگاہ ہے اور اسی کی نظر کی پر واہ رکھتا ہوں اس لئے نیکی کے جذبے کے ساتھ ، خلوص کے جذبے کے ساتھ بنی نوع انسان کے آپس کے تعلقات کو بڑھانے کی نیت سے میں جو بھی قدم اٹھاؤں گا مجھے ایک ذرہ کی بھی پرواہ نہیں ہے کہ وہ قدم اٹھا نا کسی کو پسند ہے یا نا پسند ہے۔جب تک میرا خدا مجھ سے راضی ہے میں ہر وہ قدم جرات کے ساتھ بے خوف ہوکر اٹھاؤں گا جو اس کی رضا کا طالب ہو۔لیکن افسوس کہ دنیا آج تک ان حقیقتوں کو نہیں سمجھ سکی جو تمام مذاہب کی بنیادی حقیقت ہے اور اس بنیادی حقیقت سے پھوٹنے والی حقیقتیں ہیں۔وہ توحید کا سر چشمہ ہے جس سے تمام سچائیاں پھوٹتی ہیں اور وہ نہیں سمجھ سکے کہ دنیا میں انسانی تعلقات کے جو بد پہلو آج دنیا پر قبضہ جما چکے ہیں وہ سارے شرک کی مختلف قسمیں ہیں اور خدائے واحد سے دور ہونے کا ایک طبعی نتیجہ ہیں۔پس اس کے نتیجے میں جیسے پہلے انسان اپنے ظلموں کے ہاتھوں پکڑا گیا اور اس کی کچھ پیش نہیں گئی آئندہ زمانے میں میں انہیں خطرات کو دوبارہ منڈلاتا ہوا دیکھتا ہوں۔اس لئے آج پہلے سے بہت بڑھ کر میرے دل میں یہ جوش پیدا کیا گیا ہے کہ میں جماعت احمدیہ کو متنبہ کروں کہ ہلاک ہوتی ہوئی دنیا کو اگر آپ بچانا چاہتے ہیں تو خود توحید پر قائم ہو جائیں اور تمام بنی نوع انسان کو توحید