خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 259
خطابات طاہر جلد دوم 259 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء وو ہوئے اور رؤیا اور کشوف بھی دکھائے گئے۔ایک دفعہ ایک غیر احمدی دوست میرے پاس تشریف لائے اور انہوں نے کہا کہ تقسیم ہند کے وقت تک میں احمدیت کی طرف بہت ہی مائل تھا بلکہ میں شوقیہ قادیان ان لوگوں میں بھی حاضر ہوا جو آخری دنوں میں یہاں خدمت کر رہے تھے لیکن بیعت نہیں کی تھی تقسیم ہند کے بعد میرا ایمان اُٹھ گیا کیونکہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں کہیں یہ ذکر نہیں ملا کہ آپ کو قادیان چھوڑنا پڑے گا۔میں نے اُن سے کہا کہ اگر ” داغ ہجرت“ ( تذکره: ۲۱۸) سے آپ کو یہ پیغام نہیں بھی ملا اور آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس سے مراد شاید آخری رحلت ہو دنیا سے عقبی کا سفر ہو تو کبھی آپ نے یہ نہیں سوچا کہ قادیان سے جانے کا ذکر نہیں تو قادیان میں آنے کا کیوں اتناذ کر ملتا ہے اور اس رنگ میں ملتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس بستی میں پیدا ہوئے یہاں بڑے ہوئے ، یہاں نشو و نما پائی۔یہی احمدیت کا مرکز بنا اور آپ کو الہام اللہ تعالیٰ ایسے کر رہا ہے جیسے آپ قادیان سے باہر ہیں اور وعدے کر رہا ہے کہ ضرور لے کر آئے گا۔یہ حیرت انگیز مضمون ہے تمام الہامات میں قادیان آنے کے الفاظ نہیں ملتے۔قادیان جانے کے الفاظ ملتے ہیں۔حالانکہ جو شخص قادیان بیٹھا رویا دیکھ رہا ہے اس کو یہ نظر آنا چاہئے تھا کہ میں باہر سے قادیان واپس آرہا ہوں یعنی میرا مقام قادیان ہے اور میں واپس لوٹ رہا ہوں، یہ نظر آنا چاہئے۔ایک بھی جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس طرح اس نقشے کو نہیں کھینچا بلکہ یہ اظہار فرمایا کہ میں قادیان جارہا ہوں اور رستے میں روکیں ہیں اور خدا تعالیٰ نے مختلف رنگ میں آپ کو آئندہ آنے والی خبریں عطا فرمائیں۔ایک الہام تھا:۔مَثْنَى وَقُلْتَ وَرُبَعَ جس کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ دو دو، تین تین، چار چار مرتبہ لیکن اس کے ساتھ اردو میں یہ الہام ہوا اب تو امن اور برکت کے ساتھ اپنے گاؤں میں جائے گا اور میں تجھے پھر بھی یہاں لاؤں گا“۔(تذکرہ صفحہ: ۶۸۴) پس میں یقین رکھتا ہوں ذرہ بھی مجھے اس میں شک نہیں کہ اس جلسے پر میری اور دور دور سے قدوسیوں کی آمد اس الہام کی صداقت کی گواہ بن گئی ہے۔کیونکہ جو وعدہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیا گیا تھا وہ آج حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اس انتہائی عاجز اور ادنی غلام کے حق میں