خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 216 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 216

خطابات طاہر جلد دوم 216 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء ہے۔پس جب ہم کہتے ہیں کہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ تو سچی ربوبیت کی تعریف کی آواز اس وقت اٹھتی ہے جب انسان اپنی ذات میں ربوبیت کو جلوہ گر دیکھتا ہے۔تب وہ ساری کائنات پر نظر ڈالتا ہے اور دیکھتا ہے کہ سارے عالم سے خدا کا یہی سلوک ہے۔تمام کائنات ادنیٰ حالتوں سے اعلیٰ کی طرف ترقی کرتی چلی جاتی ہے اور جب اپنی ذات میں اس مضمون کو جاری دیکھتا ہے تو اس کی رگ رگ میں حمد پھڑکنے لگتی ہے، اس کے خون کی رگوں میں حمد دوڑنے لگتی ہے، اس کے دل میں حمد دھڑ کنے لگتی ہے اور بے اختیار اس کے دل سے حمد کا ایک اور نعرہ بلند ہوتا ہے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ کہ دیکھو خدا کیسی حمد والا ہے اس نے تمام عالم کو ترقی دی اور ادفی حالتوں سے اعلیٰ کی طرف اُس کو ترقی دیتا چلا جارہا ہے اور مجھے بھی اس نے ادنیٰ اور ذلیل حالتوں میں پکڑا اور ان ذلیل حالتوں سے بڑھاتے ہوئے ایک خوبصورت اور حسین انسان بناتا چلا گیا۔پس ان معنوں میں جب آپ حمد کے مضمون پر غور کرتے ہیں تو آپ کو ایک اور پیغام بھی ملتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جس خدا نے تمہیں اچھا بنایا ، جس نے تمہاری کمزوریوں کو دور فرمایا ، جس نے تم سے صرف نظر کی ، جس نے تمہیں توفیق بخشی کہ اس کی راہ میں آگے بڑھو اور اس کے فضل اور فیض کے ساتھ اپنے گناہوں کو کم کرتے چلے جاؤ اور اس کی اطاعت میں آگے بڑھتے چلے جاؤ۔وہ شخص اپنے ماحول کے لئے دوسرے بنی نوع انسان کے لئے کل عالم کے لئے ایک رب بن کر اٹھنا شروع ہوتا ہے۔یہ وہ ربوبیت ہے جس کے ذریعے سارے عالم کو حد سے بھرا جائے گا یہ ربوبیت ان انسانوں کے وجود میں ظاہر ہوتی ہے جور بوبیت کا فیض پانے والے ہوتے ہیں۔پس جب تک آپ اپنی ذات میں خدا کے فیض اور اس کے فضل کے ساتھ چھوٹے چھوٹے رب نہ بن جائیں۔ان معنوں میں رب نہ بن جائیں کہ جس کے نتیجے میں آپ کے وجود سے ادنیٰ حالتیں اعلیٰ حالتوں میں تبدیل نہ ہونے لگ جائیں، جب تک ایسا نہ ہو اس وقت تک آپ کو خود یقین نہیں ہوسکتا کہ آپ واقعی رب سے فیض پانے والے ہیں۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے فیض پا لیا وہ مجھتے ہیں گناہوں کی بخشش ہی کافی ہے اور خدا نے ہمارے پر دے ڈھانپ دیئے اس سے ثابت ہوا کہ خدا ہم سے راضی ہو گیا اور ہمارا سفر ختم ہوا، یہ درست نہیں ہے۔رَبُّ العَلَمِینَ کہا گیا ہے وہ تمام جہانوں کا رب ہے۔جواس کا ہو جائے جو اس سے فیض پائے اسے اپنے رب کی طرح لاز ماننا پڑے گا۔اس کا فیض تمام جہانوں پر