خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 215
خطابات طاہر جلد دوم 215 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء میں جھجکتا ہوا انکسار سے قدم اٹھاتا ہے اور حسرت سے نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتا ہے کہ اے خدا! اب بھی میں ننگا ہو گیا اور اب بھی میں ننگا ہو گیا ، اب بھی میرے بدن سے کپڑے اٹھ گئے میں تیری نظر کے سامنے ہوں میری حیا کی لاج رکھ۔ایسے انسان کو خدا ئباس التَّقْوى سے زینت بخشتا ہے اور اس سے خدا جب انصراف فرماتا ہے تو اس کے گناہ مٹنے شروع ہو جاتے ہیں۔اور یہ وہ مضمون ہے جس کو آپ کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔یہ مضمون گناہوں پر جرات دلانے والا مضمون نہیں بلکہ گناہوں سے پاک ہونے کا راز اس میں سمجھایا گیا ہے۔جب خدا صرف نظر فرماتا ہے تو گناہ کے داغ مٹنے شروع ہو جاتے ہیں اور انسان کو نئی طاقت نصیب ہوتی ہے گناہ کے مقابلہ کی اور اس طرح لباس التقوی میں اس کا اندرونی بدن نئی صحت پانے لگتا ہے، نیا حسن اختیار کرنے لگتا ہے، اس کے داغ دھلتے رہتے ہیں۔ان کی جگہ خوبصورت رنگ ان داغوں کو ڈھانپ لیتے ہیں کیونکہ جس کو خدا لباس پہناتا ہے اس لباس کو محض اس رنگ میں نہیں پہنا تا کہ ایک منافق وجود ظہور میں آئے۔خدا تعالیٰ کا لباس پہنانا بالکل ایک اور مضمون ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جب خدا ڈھانپ دیتا ہے تو پھر اس کی اندرونی حالتوں کو درست کرنا شروع کر دیتا ہے اور وہی اندرونی حالتیں ہیں جو ترقی کرتے ہوئے خود ایک لباس بن جاتی ہیں۔پھر انسان ایک نئے لباس میں ظاہر ہوتا ہے پھر اسے ایک نئی خلقت عطا کی جاتی ہے، خلق آخر ا سے نصیب ہوتی ہے۔وہ لباس جو اوپر کالباس تھا جس طرح سانپ کی کینچلیاں اترتی رہتی ہیں اس طرح گناہ کے سانپ کی کینچلیاں اتر جاتی ہیں اور تازه وجود ایک نیا لباس اس کو اپنے اندر کے وجود سے عطا ہوتا ہے جو گناہوں سے پاک ہوتا ہے لیکن گنا ہوں سے کامل طور پر پاک ہونا انسان کے بس میں نہیں۔اس لئے پھر وہ ظاہری لباس بھی داغدار ہوتا رہتا ہے پھر اس سے حیا پیدا ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے ایک اور لِبَاسُ التَّقوى عطا کرتا ہے۔یہ جاری وساری مضمون ہے جس کے نتیجے میں جب آپ باشعور طور پر اس راہ پر قدم بڑھائیں، آپ کا دل حمد و ثنا سے بھرتا چلا جاتا ہے۔جب کوئی شخص دنیا میں آپ سے ایسا سلوک کرے آپ کے بار بار گناہوں سے صرف نظر کرے، آپ کو ڈھانپے ، آپ کو غیروں کی ظالمانہ نظروں سے بچائے اور پھر آپ کی اصلاح کرتا چلا جاۓ اور بہتر سے بہتر صورت عطا کرتا چلا جائے تب کچی حمد اس کے لئے پیدا ہوتی ہے اور یہی ربوبیت