خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 196 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 196

خطابات طاہر جلد دوم 196 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء تین مہینے کے لئے گرفتار کرا دے اور خصوصیت سے ان کے لئے حکم جاری کیا کہ ان کو تکلیف میں رکھا جائے۔ان کے خطوط جیل سے بڑے ایمان افروز موصول ہوتے رہے ہیں اور بہت ہی خدا تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور جیل میں ہی اپنے قرب کے نشان دکھائے۔وہ لکھتے ہیں : جیل میں میرے ساتھ عبدالرزاق نامی ایک شخص نظر بند تھا۔اس نے ایک روز مجھے کہا کہ آپ کی خوا ہیں پوری ہوتی ہیں، آپ میرے بارے میں بھی دعا کریں اور خواب دیکھیں۔چنانچہ اسی روز رات میں نے خواب میں دیکھا کہ چھوٹے قد کا ایک شخص میرے ساتھ چل رہا ہے، مجھے تشویش ہوئی کہ یہ آدمی کون ہے؟ اتنے میں ایک تیسرے شخص نے آ کر کہا کہ گھبراؤ نہیں اس کا نام بشیر احمد ہے، قد چھوٹا ہے، خدا تعالیٰ آپ کو چھوٹی بشارت دے گا۔“ بشیر احمد ہے قد چھوٹا اس لئے ہے کہ آپ کو خدا تعالیٰ چھوٹی بشارت دے گا، یہ خواب ہی میں ان کو تعبیر بھی سکھائی گئی۔رات بھر میں سوچتا رہا کہ یہ خواب میرے بارے میں نہیں کیونکہ مجھے تو بڑی بشارت چاہئے۔صبح میں نے یہ خواب عبدالرزاق کو سنائی اور کہا کہ یہ تمہارے متعلق معلوم ہوتی ہے کیونکہ مجھے تو خدا نے بڑی بشارت دینی ہے تمہیں چھوٹی دینی ہے۔ہیں، پچیس روز سے عبدالرزاق کو کوئی ملنے نہیں آیا تھا، بے حد پریشان تھا۔اس خواب کے دوسرے دن جبیل کا ایک ملازم عبدالرزاق کے پاس آیا اور کہا کہ تمہارا بھائی باہر تمہیں ملنے آیا ہے، کل ہائیکورٹ نے تمہاری رہائی کا فیصلہ دے دیا ہے۔جو جیل کا ملازم یہ پیغام دینے آیا تھا اس کا نام بشیر احمد تھا اور اس کا قد سارے جیل کے ملازمین میں سب سے چھوٹا تھا۔چنانچہ اس نشان کو دیکھ کر عبدالرزاق نے بیعت کر لی اور سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوا۔“ سلطان احمد صاحب زعیم انصار اللہ چک۔71 جنوبی سرگودھا لکھتے ہیں: ایک دن میرے پاس ایک غیر احمدی نوجوان زاہد ولد غلام قادر آیا اور کہنے لگا کہ کل رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔وہ یہ ہے کہ ہمارے