خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 152
خطابات طاہر جلد دوم 152 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۲۲ / جولائی ۱۹۸۸ء اس میدان میں کبھی اُس میدان میں کبھی اس میدان میں اور اس میدان کی احتیاج ہے کیا کوئی ضرورت نہیں کسی میدان کی بھی۔حضرت اقدس ﷺ نے خدا کے اذن پر جو مباحلے کا پہلا چیلنج دیا تھا نجران کے عیسائیوں کے وفد کو اس میں صاف آیات سے ظاہر ہے کہ نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَ نا وَنِسَاءَ كُمُ وَأَنْفُسَنَا وَ أَنْفُسَكُمْ (آل عمران :۱۲) تمام تفصیل قرآن کریم میں موجود ہے کہ آؤ اپنے بیوی بچوں کو ، اپنے مردوں کو عورتوں کو سب کو بلاؤ۔اگر ایک میدان میں ضروری تھا ان سب کا اکٹھا ہونا تو تم لوگوں کے بیوی بچے کہاں اکٹھے ہو سکتے تھے وہاں وہ تو اپنے وطن میں بیٹھے ہوئے تھے اس لئے صاف پتا چلتا ہے کہ نزع کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ایک میدان میں اکٹھا کرو۔پھر دوسری بات ان علماء کو معلوم نہیں۔معلوم ہونی چاہئے اگر معلوم نہیں کہ جتنی روایات ملتی ہیں اگر ان پر اعتماد کیا جائے تو شکل یہ بنتی ہے کہ اس چیلنج کے بعد قرآن کریم کی اس آیت کی تفصیل میں حضرت محمد مصطفی امی نے صرف مردوں میں سے حضرت علی کو ساتھ لیا اور خواتین میں سے فاطمتہ الزاہرہ کو ساتھ لیا اور دو نواسوں کو اپنے ساتھ لیا اور اس آیت کی تفصیل یہ سمجھی کہ وَانْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُم سے مراد بس ہم یہی ہیں اس کے سوا مسلمانوں میں کوئی اس لائق نہیں کہ مسلمانوں کی نمائندگی کر سکے۔اسی وجہ سے چونکہ احادیث میں یہ بات ملتی ہے بہت سے علماء نے ان احادیث پر بڑی سخت تنقید کی ہے اور جامع الازھر میں کچھ عرصہ پہلے علماء نے اس تحقیق کے نتیجے میں یہ بات ثابت کی کہ یہ تمام روایتیں شیعہ روایتیں ہیں اور ان میں ایک راوی ایسا شامل ہے جو جھوٹا اور نا قابل اعتماد ہے اور اس شیعہ خیال کو تقویت دینے کی خاطر یہ روایتیں گھڑی گئی ہیں کہ آنحضرت مالی کے نزدیک یہی آپ کے خاندان کے چند افراد تھے جو جماعت مومنین میں سے تھے اور وَأَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُہ میں شامل تھے باقی نہیں تھے اس لئے پھر ان کو شیعہ مذہب اختیار کرنا چاہئے لیکن سیدھی بات یہ ہے کہ اگر اکثریت اس روایت کو سچا سمجھتی ہے تو شیعہ مسلک کی تائید کی روایتیں ہیں مگر امر واقعہ ہے کہ مباھلہ کسی مقام کا محتاج نہیں۔مقام ایک کردار ضرور ادا کرتا ہے۔پہلے زمانوں میں جب اخبارات نہیں ہوا کرتے تھے اشاعت نہیں ہوا کرتی تھی تو نمائندوں کو کسی ایک جگہ اکٹھا کرنا اس غرض سے تھا کہ وہ تمام دوسروں پر گواہ بن جائیں۔اس میں بھی یہ ضروری نہیں تھا کہ ہر فریق کے خاندان کسی گروہ کے سارے افراد حاضر ہوں پس ان کو مباھلہ قبول کرنے