خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 126

خطابات طاہر جلد دوم 126 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۷ء خلاف سب وشتم سے کام نہ لیا جائے۔چنانچہ فرمایا۔وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدْوا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذلِكَ زَيَّنَا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّتُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الانعام:١٠٩) یعنی اے مسلمانو ! تم سب وشتم کے لئے نہیں نکالے گئے ، جھوٹے خداؤں کو بھی گالیاں نہ دو، ان کو بھی سخت الفاظ سے یاد نہ کرو کیونکہ اگر تم نے ایسا کیا اور دشمن نے اشتعال کے نتیجہ میں خدائے واحد کو گالیاں دیں تو اس میں تم ذمہ دار ہو جاؤ گے ان کے جھوٹے خداؤں کو گالیاں دے کر اگر ایک سچے خدا کو گالیاں دینے کے لئے تم نے انکے ہاتھوں میں بہانہ دیا تو تم اس ذمہ داری سے بری الذمہ قرار نہیں دیئے جاسکتے۔ایک تو یہ اصول بیان فرمایا۔پھر ایک دوسرا نہایت ہی حسین اصول یہ بیان فرمایا کہ تم اپنے مذہب کو جس زاویہ نگاہ سے دیکھ رہے ہو تمہیں یہ حسین دکھائی دے رہا ہے کیوں اس بات کو بھول جاتے ہو کہ ہر مذہب کی پیروی کرنے والا اسی طرح تمہاری ہی مانند اپنے مذہب کو حسین دیکھ رہا ہے۔گذلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ہم نے تو ہر امت کو ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنے اعمال کو، اپنے تصورات کو حسین دیکھ رہے ہیں۔اس بات کا فیصلہ کہ سچا کون تھا اور جھوٹا کون ہے قیامت کے دن ہو گا جب خدا تعالیٰ ان اعمال کا جائزہ لے گا اور ان اہل مذاہب کے سامنے اس بات کو کھولے گا کہ کس کے عمل کی کیا حیثیت تھی؟ تو یہ دو بنیادی ایسے اصول ہیں جو آج کی دنیا میں ، خصوصاًمذہب کی دنیا میں امن کی ضمانت ہیں اگر آج سے چودہ سو سال پہلے ان اصولوں کی پیروی کی ضرورت تھی تو آج بدر جہا زیادہ مرتبہ زیادہ شدت کے ساتھ ان اصولوں کی پیروی کی ضرورت ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ محض اسلام ہی کو بدنام نہیں کیا جا تا بلکہ بعض دوسرے مذاہب بھی اس فہرست میں شامل کئے جارہے ہیں کہ وہ بھی نفرت اور دشمنی کی تعلیم دینے والے ہیں۔دیگر مذاہب کی طرف سے جو دوش اسلام پر لگایا جاتا ہے، دہر یہ لوگوں کی طرف سے وہی الزام تمام دیگر مذاہب پر عائد کیا جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں دہریت پھیلتی ہے اس کے نتیجہ میں مذہب سے نفرت بڑھتی چلی جاتی ہے۔پس آپ جب اسلام کی خدمت کرتے ہیں اور اسلام کے متعلق اس قسم کی اہم بنیادی غلط فہمیوں کو دور کرتے ہیں تو فی الحقیقت آپ