خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 91
خطابات طاہر جلد دوم 91 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۸۵ء حضرت محمد مصطفی میں اللہ کی طرف اور سلام کے معاملے میں آپ کا اپنا اسوہ یہ تھا کہ ایک دفعہ آپ گزر رہے تھے تو کسی یہودی نے آپ کو کچھ منہ میں اس طرح کہا! جیسے سلام کر رہا ہوتا ہے۔آپ نے کہا !علیکم اور گزر گئے۔آپ کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے غالباً عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے سنا نہیں اس نے کیا کہا تھا ، اس نے کہا تھا السام علیکم، سلام نہیں آپ پر لعنت ہو۔نعوذباللہ من ذالک، کہتے ہیں تم نے نہیں سنا کہ میں نے کیا کہا تھا میں نے بھی تو علیکم ہی کہا تھا۔(بخاری کتاب الدعوات حدیث نمبر ۵۹۱۶) اس آقا کی طرف منسوب ہو کر اس سے سبق بھی نہیں سیکھے۔اس میں یہ سبق ہے کہ اگر وہ مجھے السلام علیکم کہتا، تو میں ضرور اس کو سلام کی دعا بھیجتا۔علماء یہ سبق وہ بھول جاتے ہیں کیونکہ علیکم نے تو بالکل اسی چیز کو الٹا نا تھا۔ان کی نظر لعنتوں کی طرف ہے لیکن محمدمصطفی کی رحمتوں کی طرف کوئی نظر نہیں۔بڑے سے بڑے، شدید سے شدید دشمن کے لئے بھی حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کے رحمت کے جذبات تھے اس کی تو دنیا بھی سنور جاتی اور آخرت بھی سنور جاتی اگر اس نے السلام علیکم کہا ہوتا۔لیکن یہاں السلام علیکم اسلامی مملکت پاکستان میں ایک ایسا جرم ہے جس کی کوئی ضمانت بھی نہیں ہے، پتا نہیں تاریخ ان کو کس طرح دیکھے گی، کیا کیا شکلیں ان کی سوچے گی کہ کسی حلیے کے یہ لوگ تھے جو ایسی حرکتیں کر رہے تھے۔کلمہ کے جرم میں جو سزائیں دی جارہی ہیں وہ تو سارے پاکستان میں پھیلی پڑی ہیں۔خدا کے فضل سے، جس حو صلے اور صبر ( نہیں حوصلے اور صبر نہیں ) بشاشت کے ساتھ اللہ کے شکر ادا کرتے ہوئے پاکستان کے احمدی قربانیاں دے رہے ہیں وہ تو ایک ایسی شاندار تاریخ ہے کہ وہ آسمان پر ہمیشہ ستاروں کی طرح چمکتی رہے گی۔ایک امیر صاحب لکھتے ہیں دو چھوٹے بچوں ، نو جوانوں کے متعلق 16 اور 18 سال کی عمر ہے۔کہتے ہیں ان کو گرفتار کر لیا گیا، تھانہ لے جا کر ہتھکڑی لگا کر رکھا گیا۔جتنا عرصہ تھانے میں رہے ان پر شدید دباؤ ڈالا گیا کہ تم اپنے ہاتھ سے اپنے سینے سے کلمہ اتاردو، گزشتہ جو ہے وہ ختم ، ہم تمہیں باہر نکلنے دیں گے۔انہوں نے جواب دیا ہم تو کلمہ طیبہ سے پیار کرتے ہیں ہمارے دین کی بنیاد ہے۔ہم اس سے کبھی انحراف نہیں کر سکتے تم چھوڑنے کی کیا بات کر رہے ہو۔تم ہمیں جتنی سزائیں دینا چاہتے ہو دو ہم یہاں سے نہیں جائیں گے، ہم تو اب یہیں بیٹھ رہیں گے، یہ نو جوانوں کا عمل ہے ان کے دل کی طبعی آواز ہے۔