خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 90
خطابات طاہر جلد دوم 90 90 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۸۵ء چکی بندھ گئی، میں بدظنیاں کر رہا تھا، کہاں خدا نے مجھے یہ سبق سکھایا اور یہ بعض دفعہ تصرف کے تابع اللہ تعالیٰ خود بخود کر وا دیتا ہے لیکن اکثر تو دعا ہوتی ہے کبھی قبول نہیں بھی ہوتی مگر بہت دفعہ قبول ہوتی ہے اور جب ہوتی ہے تو اپنے نشان خود ساتھ لے کر آتی ہے تا کہ دعا کروانے والے کو علم ہو جائے کہ یہ اتفاقی حادثہ نہیں ہے۔بعض دفعہ ایسے بھی واقعات ہوتے ہیں۔ایک مبلغ نے مجھے ایک دفعہ سیرالیون سے لکھا کہ فلاں جگہ کچھ احمدی ہوئے ہیں لیکن چیف بڑا پکا ہے، عیسائی تھا وہ اور بڑا کٹر ہے۔اگر وہ نہ ہوتو ہمیں یہاں جگہ نہیں مل سکتی تو دعا کریں۔میں نے کہا دعا بھی میں نے کی ہے اور تم جاؤ وہاں دوبارہ اور جب وہاں مجلس لگے تو ان کو میری طرف سے پیغام دو کہ میں آپ کو پیغام دیتا ہوں کہ آپ احمدی ہو جائیں، اسلام قبول کر لیں، کہتے ہیں، میں نے کہا ٹھیک ہے۔حکم آ گیا ہے پورا کرنا ہے چنانچہ وہ گئے وہاں مجلس لگی ہوئی تھی۔وہ چیف صاحب بھی آئے ہوئے تھے تو بالکل نہیں مان رہے تھے بات ، کہتے ہیں! اچانک مجھے یاد آیا ، میں نے کہا دیکھیں میں آپ کو ایک پیغام دینے آیا ہوں ہمارے خلیفہ اسیح نے مجھے پیغام بھیجا ہے کہ آپ کو یہ پیغام دے دوں کہ آپ بالکل تاخیر نہ کریں آپ احمدی ہو جائیں۔اس نے کہا! امسنا میں ابھی احمدی ہوتا ہوں اور اس کے ساتھ اور بھی دوست احمدی ہو گئے خدا کے فضل سے۔اللہ جس جماعت کے ساتھ ہے، روزانہ جلوے دکھاتا ہے، غم بھی ہوتے ہیں اس کے نام پر لیکن ہر غم ایک خوشی چھوڑ جاتا ہے ہر غم بعض خوشیوں کے، لامتناہی خوشیوں کے سلسلے چھوڑ جاتا ہے،اس جماعت کو کون شکست دے سکتا ہے۔کلمہ کی مہم کا آغاز سنیئے یعنی اسلام کے ساتھ ایک ایسا دردناک مذاق کھیلا جارہا ہے، مذاق دردناک تو نہیں ہوتا لیکن ہے بھی مذاق اور دردناک بھی ہے اور ایسے ذمہ دار حلقوں میں کھیلا جا رہا ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔مانسہرہ کے ایک دوست کو ابھی مجھے چند دن ہوئے ہیں با قاعدہ اس فیصلے کی نقل ملی ہے، پرسوں کی بات ہے السلام علیکم کہنے کے جرم میں پاکستان میں چھ ماہ قید بامشقت کی سزاسنادی گئی ہے اور بڑا لمبا ایک فیصلہ لکھا ہوا ہے۔اس وقت مجھے خیال آیا کہ کیا ہو گیا ہے اس قوم کو ؟ اگر ہم نے دعائیں نہ کیں تو ہلاک ہو جائیں گے۔ان کی طرف توجہ کریں، خدا تعالیٰ سے ان کے لئے رحم مانگیں، پتا ہے منسوب کس کی طرف ہوتے ہیں ؟ ہمارے آقا ومولا سرور دو عالم