خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 52 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 52

خطابات طاہر جلد دوم 52 52 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء انفرادی تبلیغ کی طرف جو جماعت نے توجہ کی ہے یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے۔ناروے بھی میں سمجھتا ہوں بیدار ہو گیا ہے اور اس معاملے میں آگے بڑھ رہا ہے اور مشرق بعید میں انڈونیشیا میں اچھا کام ہورہا ہے، نجی میں اچھا کام ہو رہا ہے، بین میں ہے، گیمبیا میں ہے اور سیرالیون میں ہے اور گھانا بھی کوشش تو بڑی کر رہا ہے لیکن ابھی تک بعض ہمسایہ ممالک کا مقابلہ نہیں کر سکا۔تبلیغ کے نتیجے میں جو انفرادی تبلیغ کا عصر ظاہر ہوا ہے، اس سے آپ یہ اندازہ لگائیں کہ کس تیزی کے ساتھ خدا تعالیٰ نے ترقی عطا فرمائی ہے۔۱۹۸۴ء جو ابتلاء کا سال ہے اس میں ۱۹۸۲ء کے مقابل پر رفتار میں سو فیصدی اضافہ ہو گیا ہے اور یہ درمیان کا جو ۸۳ ء کا سال ہے اس میں باون فیصدی تھا جس کا مطلب ہے Trend قائم ہوا ہے اور یہ ہے اصل خوشخبری تعداد میں اضافہ تو ہوتا رہتا ہے، کبھی اونچا ہو گیا کبھی نیچا ہو گیا لیکن جس کو Acceleration کہتے ہیں یہ ہے جس سے فتوحات ہوتی ہیں۔چنانچہ اللہ کے فضل کے ساتھ ان تین سالوں میں Acceleration دکھائی دے رہی ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ کام اگر اسی طرح کرتے رہے دیانتداری اور اخلاص سے اور آگے بڑھاتے رہے تو دیکھتے دیکھتے جو پچھلے کاموں کا پھل ہے وہ بھی آپ کو ملنا شروع ہوگا اور بہت تیزی سے پاک تبدیلی پیدا ہوگی۔یورپ کے ذکر میں میں ہالینڈ کا ذکر کرنا بھول گیا، ہالینڈ میں بھی اللہ کے فضل سے انفرادی تبلیغ پر توجہ ہوگئی ہے، بہت خدمت کرنے والے وہاں ہمیں مقامی بھی اور دوسرے پاکستانی بھی ملے ہیں۔وقف عارضی کے وفود تو بہت گئے ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ رپورٹیں سب نہیں بھیجتے اور یہ میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ وقف عارضی کی رپورٹیں ضرور بھیجا کریں کیونکہ اس سے لطف بھی آتا ہے اور مجھے پتا لگتا رہتا ہے کہ ہو کیا رہا ہے اور پھر میں راہنمائی بھی کر سکتا ہوں پھر ایک وقف عارضی کی رپورٹ دوسرے کے لئے بھی راہنمائی کا موجب بنتی ہے اور روشنی بڑھتی ہے جماعت کی۔انسان تو روشنی میں سفر کرتا ہے، ہر ترقی کا تعلق روشنی سے ہے۔تو علم کی روشنی ، حقائق کی روشنی ، تجارب کی روشنی اس سے کیوں محروم کرتے ہیں جماعت کو ، جب آپ کو حاصل ہوگئی ، خدا نے عطا فر مادی تو محض آپ کی خاموشی کے نتیجے میں ہم اس روشنی سے محروم رہ جائیں یہ تو بڑا ظلم ہے۔جن وفود نے رپورٹیں بھجوائی ہیں ان میں ایک ناروے خاص طور پر قابل ذکر ہے، انہوں نے روس میں لینن گراڈ اور تھالین