خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 50 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 50

خطابات طاہر جلد دوم 50 50 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء تھا کہ تم نے درخواستیں دینی ہیں، کوشش کرنی ہے وہاں ضرور پہنچنا ہے اور تمہارے سپر د وہ ملک کر دیا ہے۔چنانچہ اللہ کے فضل سے ۱۹۸۴ء میں ان کو بھی وہاں با قاعدہ ایک رضا کار مشن بنانے کی توفیق ملی اور اینٹی گوا، ویسٹ انڈیز کا ایک جزیرہ ہے وہاں ہمارے سوئس احمدی رفیق چانن نے اپنا نام رضا کار مبلغ کے لئے پیش کیا اور بہت خدمت کی ہے۔بہت ہی عظیم الشان کام انہوں نے جماعت کی خدمت کا اور تبلیغ کا باقاعدہ ایک مبلغ کے طور پر کیا ہے۔نیوزی لینڈ میں محمد اسلم ناصر ہمارے آنریری مبلغ بنے اور جو جزیرہ جس کا میں نے ذکر کیا تھا وہاں اب خدا نے ایک اور بھی آنریری مبلغ ہمیں عطا فرما دیا ہے۔اس کا نام Tutuila یا اس قسم کا کوئی نام ہے جو پڑھا نہیں جاتا مجھ سے۔ہمارے ایک اور دوست اب وہاں پوسٹ ہوئے ہیں اور ان کا بھی بڑا دلچسپ واقعہ ہے، ان کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا اور بڑی کوشش سے انہوں نے ملازمت کی تلاش کی۔مجھ سے ملنے کے لئے آئے تو اسی دن یا اس سے ایک دن پہلے مجھے یہ مبارک صاحب کی رپورٹ آئی تھی اس جزیرے سے کہ یہاں تو بہت کام ہے اور بڑا ضروری ہے تو میں یہ نیت لے کے بیٹھا تھا کہ ان کو یہ کہوں کہ تم اس جزیرے کے لئے کیوں نہیں کوشش کرتے ، دنیا بہت کمالی ہے اب وہاں جا کے کام کرو۔وہاں اگر کام مل جائے تو اس سے اچھی اور کوئی جگہ نہیں ہوگی تو میں بات کرنے لگا تو انہوں نے کہا ! جی میں ایک بڑے ضروری مشورے کے لئے آیا ہوں۔میں نے کہا !ہاں بتا ئیں، انہوں نے کہا ! مجھے بڑی تلاش کے بعد ایک نوکری تو ملی ہے لیکن اتنی دور ملی ہے کہ میرا دل نہیں چاہتا۔میں نے کہا! کہاں ملی ہے، انہوں نے کہا! اس جزیرے میں ملی ہے۔میں نے کہا! یہ تو خدا نے بھیجا ہے آپ کو، یہ رپورٹ مجھے آج ملی تھی یا کل اور میں یہ فیصلہ کر کے بیٹھا ہوا تھا کہ مجھے علم تھا ان کے حالات کا کہ آپ کو مجبور کروں گا کہ ضرور وہاں جائیں اور وہاں نوکری لیں اور وہ یہ مسئلہ لے کے آئے تھے کہ و ہیں ملتی ہے اور کہیں ملتی نہیں، تو اس طرح خدا تعالیٰ زبردستی ہمارے کام کر رہا ہے کوئی ہماری چالاکیاں نہیں ہیں اس میں۔نئی جماعتوں کے قیام کی تحریک کی گئی تھی چنانچہ اس عرصے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مندرجہ ذیل ممالک میں نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔میں نے کہا تھا اسی ممالک ہیں۔میں نے تحریک یہ کی تھی کہ بعض ممالک اپنے ذمہ یہ لے لیں کہ ہم اتنے ممالک کو احمدی بنائیں گے اور اسی ممالک کو