خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 41 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 41

خطابات طاہر جلد دوم 41 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۸۵ء ہوں تقریباً چھ مہینے تو مسلسل روزانہ مغرب کے بعد ہم بیٹھتے رہے ہیں، جب تک وقت ملا بیٹھے رہے۔تو یہ سارے دوست باہر سے آتے تھے اور ان کے لئے یہ تو ممکن نہیں ہے کہ یہاں آئیں اور مجلس سوال و جواب سن کر پھر واپس جاکے وقت پر کھانا کھا سکیں ، چنانچہ ان سب کے کھانے کا انتظام طوعی طور پر احمدی باورچیوں نے کیا، احمدی بیروں نے کیا ، احمدی مسلمین نے کیا اور آپ حیران ہوں گے یہ کیفیات سن کے کہ بعض ان میں ڈاکٹر ز بھی تھے، کوئی ائیر لائنز میں ملازم ہیں، کوئی کسی اور عہدے پر ہیں، کچھ لوگ ہیں جو ریٹائر ہو گئے تھے لیکن ہمہ وقت یہیں کے ہور ہے اور قطعاً ایک لمحہ کے لئے بھی کام میں کمی نہیں آنے دی۔میں نے بلکہ کہا کہ اتنا بوجھ تو آپ اٹھا ہی نہیں سکتے ، ہمارے پاس تو بڑا عملہ ہوتا تھا، وہاں باورچی تھے ، کارکنان تھے ، دیگیں دھونے والے، برتن مانجھنے والے ،مصالحے کوٹنے والے بڑا کام ہے، آپ لوگ تھک جائیں گے۔میں جماعت کو کہہ دیتا ہوں اپنی روٹی کوئی سینڈ وچ وغیرہ ساتھ لے آیا کرو وغیرہ یہاں اس کی عادت ہے مگر یہ نہیں مانے۔انہوں نے کہا کہ ہم یہ خدمت ضرور کریں گے، چنانچہ کر رہے ہیں آج تک اور یہاں جو آپ آج مہمان ہیں، یہ بھی انہیں رضا کار باورچیوں کے مہمان ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لنگر خانے کی خدمت کو اپنے لئے سب سے بڑا اعزاز سمجھ رہے ہیں۔ان سے آپ پوچھیں کہ جناب! آپ ڈاکٹر ہیں تو ان کے چہرے پر کوئی تعجب نہیں ، کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوگی ، کوئی کسی قسم کے فخر کا احساس نہیں ہوگا، ڈاکٹر کیا ہے؟ دنیا میں ہر جگہ ہر موڑ پر ڈاکٹر مل جاتے ہیں لیکن آپ ان کو یہ کہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لنگر میں آپ کھانا بھی پکاتے ہیں پھر ان کا چہرہ تمتما تا ہوا دیکھیں۔عجیب نظارے ہیں ایسے درویش آپ کو یہاں نظر آئیں گے کہ دنیا کی دوسری آنکھ پہچان بھی نہیں سکتی۔دنیا والے تو جبہ و دستار کی پرستش کرتے ہیں اکثر ، میں نے دیکھا ہے لمبی لہا جاتی ہوئی داڑھیوں سے متاثر ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سارا دین سارا تقویٰ ان میں پڑا ہوا ہے لیکن تقویٰ کسی اور چیز کا نام ہے۔تقویٰ کے بعد انسان کا نفس رہتا نہیں وہ خدا اور خدا والوں کا ہو کے رہ جاتا ہے انانیت اس کے قریب بھی نہیں پھٹکتی، ریا کاری سے اسے ایسی دشمنی ہوتی ہے اور ایسا بعد ہوتا ہے کہ مشرق اور مغرب میں بھی ایسا بعد نہیں ہوگا۔اپنے نفس کو مٹا کر وہ زندہ رہتے ہیں اور کبھی یہ