خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 408
خطابات طاہر جلد دوم 408 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1996ء مضمون کے تمام پہلوؤں پر یہ حاوی ایک چھوٹا سا جملہ ہے۔آفاقی طور پر ہم خدا کے سوا بہت سی چیزوں کو بڑاد یکھتے ہیں اور بڑا سمجھتے ہیں۔وہ دنیا کی کسی قسم کی عظمتوں سے تعلق رکھنے والی بات ہو، اس کا نام جو بھی آپ رکھیں۔حقیقت یہ ہے کہ وہ فرضی عظمت جو انسان نے اپنا رکھی ہے وہ انسان کو آفاقی طور پر بت بنا کر دکھاتی ہے۔یہاں تک کہ ناچنے گانے والے بھی ایک عظمت اختیار کر لیتے ہیں اور حقیقہ ان کی بھی عبادت شروع ہو جاتی ہے۔وہ لوگ جوسر منڈا کے پھرتے ہیں ان کی بھی ایک عظمت کا رعب طاری ہو جاتا ہے۔پس وہ انسان جس نے ضرور پوجنا ہے، کسی کو ضرور پوجنا ہے جب خدا کو نہیں پوجتا تو اس کے معبود ذلیل سے ذلیل تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔دنیا کی کمینی چیزوں کو پوجنے لگتا ہے جن میں کوئی بھی حقیقت نہیں۔جو اس کو کچھ دے نہیں سکتے بلکہ اُس سے اس کا سکون چھین لے جاتے ہیں۔کسی مشکل میں اس کے کام نہیں آسکتے ، کوئی ذاتی مرتبت اس کو عطا نہیں کر سکتے مگر انسان پوجے بغیر رہ نہیں سکتا۔پس اس دنیا میں شرک دراصل اس تڑپ سے پیدا ہوتا ہے جو خدا کی خاطر لگائی گئی مگر اس کا رخ ہم موڑ کر غیر اللہ کی طرف کر دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں یہ آفاقی معبود ہیں جو ہمیں اپنے چاروں طرف سے گھیرے میں لئے ہوئے ہیں۔کبھی ہم اس کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں، کبھی اُس کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں، کبھی مال و دولت کی خاطر، کبھی سیاسی عظمتوں کے لئے کبھی جاہ ومرتبت کے لئے، کبھی اپنے نفس کی شان بنانے کی خاطر کہ ہماری ادائیں زیادہ حسین ہیں، ہمارا لباس زیادہ دلکش ہے۔کئی قسم کے روپ دھارتے رہتے ہیں اور ہر روپ ایک خدا کا مظہر ہے جو جھوٹا خدا ہے اورنفس کے معبود، بت اور ہیں جو کثرت کے ساتھ دل میں پیدا ہوتے ہیں ، ہر وقت انسان کے اندر کوئی نہ کوئی بت جنم لے رہا ہوتا ہے۔پس بعض لوگوں کی دنیا بتوں سے بھر رہی ہوتی ہے اور بعضوں کی دنیا جب وہ توحید کی طرف سفر شروع کرتے ہیں بتوں سے خالی ہو رہی ہوتی ہے اور ان دو حالتوں میں سے کوئی انسان دو میں سے ایک سے خالی ہے ہی نہیں۔لاز مایا اس کے اندر بت بڑھ رہے ہیں یا بہت کم ہورہے ہیں۔درمیانی حالت محض ایک جھوٹ اور فرض ہے، ایک فرضی بات ہے اور آپ نے دیکھنا ہے کہ آپ کا قدم کسی طرف اٹھ رہا ہے اگر نئی نئی خواہشات جنم لیتی چلی جا رہی ہیں اور آپ کو ذکر الہی سے غافل کر رہی ہیں، دین کے اعلیٰ مقاصد سے آپ بے خبر ہوتے چلے جارہے ہیں آپ کی لگن