خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 407 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 407

خطابات طاہر جلد دوم 407 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1996ء اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فرماتے ہیں کہ جو کچھ تم میرے ہاتھ پہ رونما ہوتے دیکھتے ہو یہ آنحضرت ﷺ کے فیوض کے سمندر کا ایک قطرہ ہے اس میں ہرگز کوئی شک کی بات نہیں، سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اقرار کرتے ہیں خدا کو گواہ بنا کے سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا ( در مشین : ۸۴) پس آنحضرت ﷺ کی کامل پیروی کے بغیر اور آپ سے فیض یافتہ ہونے کے بغیر دنیا میں کوئی زندگی نہیں ہے، زندگی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔پھر عرض کرتے ہیں کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ کا ذکر کر رہے ہیں اس لئے میں کہتا ہوں پھر عرض کرتے ہیں: ”میں اپنی کوئی عزت نہیں چاہتا بلکہ اس کی عزت چاہتا ہوں جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۸۲) یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد ہی یہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی شان صداقت کو ظاہر کریں اور ان سچائیوں کو دنیا کے سامنے پیش کریں جو آنحضرت ﷺ کے دل پر اتری تھیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: تو حید ایک نور ہے جو آفاقی و انفسی معبودوں کی نفی کے بعد دل میں پیدا ہوتا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه : ۱۴۸) ابھی میں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ اپنے دل کے شرک کے پردوں کو ایک ایک کر کے اتارتے چلے جائیں اور اگر آپ سچائی کا سفر اختیار کرتے ہیں اگر اپنی خواہشات کے بت دیکھنے کی تمنا لئے بغیر آپ اپنے نفس کے پردوں کو دور کرتے ہیں تو آخر خلا کے سوا آپ کو کچھ نہیں ملے گا،خدا کے سوا کوئی اور وجود نہیں ہوگا۔یہ وہ مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہایت عارفانہ رنگ میں آفاق کے حوالے سے بھی بیان کر رہے ہیں اور انفس کے حوالے سے بھی بیان فرمارہے ہیں۔فرماتے ہیں تو حید ایک نور ہے جو آفاقی اور انفسی معبودوں کی نفی کے بعد دل میں پیدا ہوتا ہے۔“