خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 402
خطابات طاہر جلد دوم 402 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1996ء وابستہ ہے۔ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس میں ساری کائنات میں ایک بھی استثناء نہیں ،تو حید کا کوئی چشمہ پھوٹتا ہوا دکھا ئیں جو نبی کے بغیر پھوٹا ہو، کل عالم کی مذہبی تاریخ پر نگاہ ڈال کر دیکھ لیں تو حید کے چشمے جب بھی پھوٹے نبی سے پھوٹے ہیں۔پس ایک یہ بھی معنی ہے اَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِى وَتَفْرِيدِی کہ سب نبیوں کو خدا تعالیٰ اپنی توحید کا سر چشمہ بناتا ہے اور ان کے بغیر دنیا کو بھی سچی توحید نصیب نہیں ہوئی اس لئے یہ خود غیر ممکن اور محال ہے کہ بجز ذریعہ نبی کے تو حید مل سکے۔توحید کی خاطر، تو حید کو حاصل کرنے کے لئے ہمارے لئے لازم ہے کہ کسی نبی کا دامن پکڑیں۔” جب خدا تعالیٰ اپنے تئیں دنیا پر ظاہر کرنا چاہتا ہے تو نبی کو جو اس کی قدرتوں کا مظہر ہے دنیا میں بھیجتا ہے اور اپنی وحی اس پر نازل کرتا ہے اور اپنی ربوبیت کی طاقتیں اس کے ذریعے دکھلاتا ہے تب دنیا کو پتا لگتا ہے کہ خدا موجود ہے۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه: ۱۱۶،۱۱۵) یعنی خدا جب ایک ایسے مظہر کی صورت میں دکھائی دیتا ہے جس میں خدائی طاقتیں نظر آتی ہیں اور ہر طاقت کے اظہار پر وہ کہتا ہے یہ میری نہیں ہے بلکہ اس کی ہے جس نے مجھے عطا کی ہے۔پس تو حید کمال درجہ انکسار کے ساتھ وہ تو حید ہے جو خدا نما ہے اور یہ تو حید خالص جیسی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو عطا ہوئی دنیا کے پردے پر کبھی کسی کو ایسی توحید عطا نہیں ہوئی۔آپ ﷺ کو خدا نے وہ کچھ دیا جو کسی اور کو نہیں دیا اور جو کچھ لوگوں کو دیا ان سے بڑھ کر آپ ﷺ کو عطا کیا۔ہر خوبی کا مضمون آپ ﷺ کی ذات پر ختم ہوا اور خاتم انبیین کا یہ معنی ہے جو دراصل حقیقی معنی ہے جو علو اور مرتبت کے لحاظ سے سب معنوں سے بلند اور بالا تر ہے۔ہر نبی کی تمام صفات آپ ﷺ پرختم ہوگئیں یا ہر نبی کی تمام صفات کو آپ نے ختم کر دیا اور اس سے بلند تر ہو گئے۔کوئی ایک بھی صفت کسی نبی کی نہیں ہے جس میں آپ نے اسے اپنے سے پیچھے نہ چھوڑ دیا ہو۔پس خاتمیت کا عرفان اگر ہو تو اس سے بڑھ کر عظیم الشان خاتمیت کا تصور ممکن ہی نہیں ہے اور اس کے باوجود آنحضرت ﷺ کے بجز اور انکسار کا یہ عالم تھا کہ ساری ساری رات استغفار کرتے اور شکر ادا کرتے گزار دیتے تھے۔یہ وہ مضمون ہے جس کو میں انشاء اللہ آخری تقریر میں آنحضرت ﷺ کی سیرت کے تعلق میں بیان کروں گا مگر یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ توحید کا