خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 395 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 395

خطابات طاہر جلد دوم 395 اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1996ء میں خاک تھا اسی نے ثریا بنا دیا (در نمین: ۱۱۷) یہ کوئی مبالغہ نہیں ہے امر واقعہ یہ ہے کہ ایک نبی کبھی بھی مبالغہ نہیں کرتا ، وہ اپنے عجز کے اظہار میں بھی مبالغہ نہیں کرتا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام تو ایسا محتاط ہے کہ ایک ایک لفظ چنا ہوا اور ایک ایک مضمون مناسب جگہ پر اس طرح بٹھایا ہوا ہے ایک ذرہ بھی اس میں مبالغے یا کسی پہلو سے کمی بیشی کی گنجائش نہیں اور جتنا غور سے آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام پڑھیں اتنا ہی بے اختیار آپ کیلئے دل سے دعائیں اٹھتی ہیں۔میں ایک دفعہ غور کر رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ دیکھیں کیسے نپے تلے اور چنے ہوئے ہیں کہ ان کو اپنی جگہ سے ہٹایا نہیں جاسکتا۔آپ فرماتے ہیں: ه سورج پہ غور کر کے نہ پائی وہ روشنی جب چاند کو بھی دیکھا تو اس نور سا نہیں (درمین :۱۵۲) اب آپ دیکھیں ، کبھی غور کیا ہے کہ ان دونوں مضمونوں کے بیان میں کیا فرق ہے؟ انسان سورج کو دیکھ نہیں سکتا اور ایک شاعر بے دھڑک ہو کر کہہ دیتا ہے جب سورج کو بھی دیکھا تو ویسا نہیں تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صداقت میں اتنے محتاط ہیں چاند کو دیکھ سکتے ہیں تو کہتے ہیں۔جب چاند کو بھی دیکھا تو اس نور سا نہیں جب سورج کی بات کرتے ہیں تو فرماتے ہیں۔سورج پہ غور کرکے نہ پائی وہ روشنی سید امام ہے جو ہمیں عطا کیا گیا ہے۔یہ صداقت کا شہزادہ ہے جو اس زمانے میں ہمیشہ تازگی بخشتے آیا ہے۔پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کو بڑے غور اور گہرائی میں اتر کر پڑھا کریں اور وہی رنگ سیکھیں، وہی ڈھنگ اختیار کریں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے تھے۔ہم نے جب دنیا کو زندہ کرنا ہے تو یہ یقین رکھتے ہوئے زندہ کرنا ہے کہ ہم خاک ہیں ہم میں ہرگز کوئی طاقت نہیں ہے مگر خاک کی وہ چٹکی ہیں جو خدا کے ہاتھوں میں تھا می گئی ہے اور یہ خاک ہے جو تمام دنیا پر ایک طوفان بن کر اٹھے گی اور ایسا طوفان جو عظیم انقلاب بر پا کر دے گا۔یہ وہ قطرہ