خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 346 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 346

خطابات طاہر جلد دوم 346 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء اسی طرح قرآن کریم میں راعنا کے لفظ کی طرف ، بیان کر کے ایک واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ یہ منافقین اور گندے لوگ آنحضور کی خدمت میں جب حاضر ہوا کرتے تھے، تو لفظ راعنا یعنی ہماری رعایت کر، کو بگاڑ کر ٹیڑھا کر کے اس طرح پڑھا کرتے تھے جیسے کہتے ہیں راعینا اور راعینا کا مطلب ہے ہمارے چروا ہے۔تو اپنی طرف سے آپ کی تذلیل کے لئے یہ بتانے کے لئے کہ تم ہو کیا، ہمارے چرواہے ہی ہو ، نا۔راعنا کا بہانہ ڈھونڈ کر ، کہ ہم نے تو راعنا کہا تھارا عینا کہہ دیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کا قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ داعِنانہ کہا کرو، وانظرنا کہا کرو۔تا کہ تمہاری زبانیں ٹیڑھی بھی ہوں تو غلط مطلب نہ نکل سکے لیکن کہیں کسی سزا کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔حالانکہ بخاری کتاب النفسیر میں اس واقعہ کو تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے۔خطیب یا خطیب سہیل بن عمرو کی رہائی اور معافی کا واقعہ بھی اس ضمن میں قابل ذکر ہے۔جنگ بدر کے قیدیوں میں ایک شخص سہیل بن عمر د بھی تھا ، یہ قریش کا مشہور خطیب تھا۔یہ خطیب قریش سہیل بن عمرو کی رہائی کا واقعہ ہے یہ وہ خطیب تھا۔سخت دشنام طراز بدگو، بدزبان، بے لگام اور اپنی زبان کی چالاکیوں سے وہ ہمہ تن ہمیشہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے خلاف گند بکا کرتا تھا، حضرت عمرؓ اس سے بہت خفا تھے۔عموماً اس موقع پر حضرت عمر کا نام لیا جاتا ہے کیونکہ ان کے اندر ذرا زیادہ جوش پایا جاتا تھا۔ورنہ ہر عاشق رسول اس سے خفا تھا، کون تھا جس کا دل راضی تھا۔وہ جنگ بدر میں قید ہو کر آیا تو اس کا کوئی عزیز اس کا فدیہ لے کر اس کی رہائی کے لئے پہنچا۔اس موقع پر حضرت عمر نے آنحضو ہے سے اجازت طلب کی کہ یا رسول الله انزع ثنیتی سہیل ابن عمرو و يدلع لسانه فلايقوم علیک خطیبا فى موطن أبدا ( سيرة ابن ہشام جلد اول صفحہ: ۶۴۹ ) کہ اے اللہ کے رسول مجھے اس سہیل بن عمرو کے اگلے دو دانت توڑنے کی اجازت دیں۔جانتے تھے کہ رسول اللہ اللہ نے فیصلہ فرما لیا ہے کہ جو شخص رہائی چاہے گا وہ وہاں سے ان کا فدیہ دے کر آئے اور ان کو چھڑالے۔تو یہ نہیں کہا کر قتل کرنے کی اجازت دیں۔کہا کہ مجھے دو دانت تو توڑنے دیں اس بد بخت کے، جن دانتوں اور زبان سے وہ آپ کو گالیاں دیا کرتا تھا اور اس کی زبان کچلنے کی اجازت دیں۔میں اس کی زبان کو مسلوں اور کوٹ کے کچل دوں تا کہ پھر آئندہ کبھی کوئی خطیب کسی وطن میں آپ کو گالی نہ دے سکے۔آنحضرت ﷺ نے اس بات کو سنا اور فرمایا میں ہرگز اس کا مثلہ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔نہ