خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 337 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 337

خطابات طاہر جلد دوم 337 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء ابن حجر العسقلانی متوفی ۸۵۲ھ اپنی کتاب لسان المیز ان جلد ۲ صفحہ ۱۱۲ میں ایسے غیر ثقہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔رمـاہ النسعى بالكذب کہ یہ وہی شخص ہے جس کو سعی نے قطعی طور پر جھوٹا قرار دیا تھا۔لسان المیزان جلد ۴ صفحہ ۱۱۲ میں بھی عبید اللہ الامری کوضعیف قرار دیا گیا اور مذکور حدیث کو خاص طور پر اس مثال کے طور پر پیش کیا ہے کہ موضوع حدیثیں گھڑی ہوئی حدیثیں کیسی ہوتی تھیں ان میں یہی حدیث بیان کی ہے۔جس میں حضرت علی کی طرف روایت منسوب ہوئی اور جس کو آج کے بعض علماء اور بعض اسلامی صوبوں کے گورنر اپنے علم کی شیخی بگھارتے ہوئے وہ پیش کرتے ہیں کہ دیکھو! ہم کتنے بڑے عالم ہیں، ہم نے وہ حدیث بھی معلوم کر لی جس میں ہتک رسول کی قطعی سزا حضرت علیؓ سے مروی ہے۔ایک اور کتاب ہے جس پر ان صاحب نے بنا کی ہے اس کے مصنف ہیں عبدالرزاق، ان کا پورا نام ہے ابوبکر عبد الرزاق بن ہمام الصنعانی ۱۲۶ ہجری میں پیدا ہوئے اور ۲۱۱ ھ میں وفات پائی۔بہت سی حدیثیں عبدالرزاق کی کتاب سے لی گئی ہیں، جن پر بنا کی گئی ہے۔میں اصل کا حال بتا دیتا ہوں، باقی حدیثوں کی تفصیلی بحث کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ان کے متعلق تہذیب التہذیب میں لکھا ہے۔وقال العباس العنبرى انه لكذاب والواقدى اَصْدَقُ مِنہ لکھا ہے یہ ایسا جھوٹا ایسا کذاب انسان ہے کہ واقدی بھی اس کے مقابل پر بہت سچا دکھائی دیتا ہے۔اور واقدی وہ مؤرخ ہے جس نے سب سے زیادہ رطب و یابس تاریخ اسلام کے حوالے سے اکٹھا کیا ہوا ہے اور جس کو مغربی مصنف سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کیونکہ جو گندان کو چاہئے واقدی میں دکھائی دے دے گا اور یہ تہذیب التہذیب میں جو ایک مستند کتاب ہے لکھتے ہیں۔کہتے ہیں ! یہ اتنا جھوٹا انسان ہے جس کی یہ روایتیں ہیں مصنف عبدالرزاق صاحب کہ واقدی کو اس کے مقابل پر دیکھو تو واقدی سچا دکھائی دیتا ہے۔اور زید ابن مبارک کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ كان عبدالرزاق كذاب يسرق الحديث وہ صرف کذاب ہی نہیں تھا بلکہ دوسروں کی حدیثیں بھی چوری کیا کرتا تھا اور اپنی طرف سے منسوب کر دیا کرتا تھا۔انہوں نے ایک باب میں پانچ حدیثیں پیش کی ہیں، جس کو آج کل کے زمانے کے علماء اور گورنر ہتک کرنے والے کے قتل کے حق میں فتوؤں کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔جن کا منبع جھوٹ ہو ان کے فتوے کا کیا حال ہو گا ؟