خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 283
خطابات طاہر جلد دوم 283 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۲ء محتاج ہے۔یہ وہ تو حید خالص ہے جس کا پیغام حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے خدا سے پا کر اس صلى الله شان کے ساتھ ہمیں پہنچایا۔پھر حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی۔”اے میرے بندو! اگر تمہارے سب اگلے اور پچھلے جن وانس تم میں سے جو سب سے زیادہ بدکار ہے اس کے قلب بدنہاد کی طرح ہو جائیں۔“ ایک طرف تقویٰ کا مضمون بیان فرماتے ہوئے حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کو پیش فرمایا پھر بغیر نام لئے یہ بتایا کہ بنی نوع انسان میں جو سب سے زیادہ بدنہاد اور بدکردار ہے جس کا قلب سیاہ ایسا ہے کہ اس سے زیادہ سیاہی کا تصور نہیں کیا جاسکتا اگر تم سارے اس کی طرح ہو جاؤ فرماتا ہے۔تو بھی میری بادشاہت میں کسی چیز کی کمی نہیں کر سکتے۔“ ( یہ ہے تو حید خالص ) ”اے میرے بندو ! اگر تمہارے سب اگلے اور پچھلے جن وانس ایک میدان میں اکٹھے ہو جائیں اور مجھ سے حاجات مانگیں اور میں ہر ایک انسان کی حاجات پوری کردوں تو بھی میرے خزانوں میں اتنی بھی کمی نہیں آئے گی جتنی سمندر میں سوئی ڈال کر اس کو باہر نکالا جائے تو سمندر کے پانی میں اس پانی کی وجہ سے کمی آسکتی ہے جو سوئی کی نوک سے لگارہ جائے۔اے میرے بندو یہ تمہارے اعمال ہیں جن کا میں نے حساب کیا ہے میں تم کو ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔پس جس شخص کا اچھا نتیجہ نکلے وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور جو شخص اس کے علاوہ کوئی اور چیز پائے یعنی ناکامی کا منہ دیکھے تو اپنی ہی ذات کو ملامت کرے کہ اس کی اپنی ہی بد عملی کا نتیجہ ہے۔(مسلم کتاب البر والصلة باب تحریم انظام حدیث: ۴۶۷۴) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اے غافلو اور دلوں کے اندھو! قرآن جیسے ضلالت کے طوفان کے وقت میں آیا ہے کوئی نبی ایسے وقت میں نہیں آیا۔اس نے دنیا کو اندھا پایا اور روشنی بخشی اور گمراہ پایا اور ہدایت دی اور مردہ پایا اور جان عطا فرمائی۔سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۵۶) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: