خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 277 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 277

خطابات طاہر جلد دوم 277 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۲ء کسی مدد کے طالب ہونے پر یا ان کے کسی شر سے بچنے پر تو ایسے تذلل سے ان کے سامنے گر جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ یہی انسان جو کل تک بڑے بڑے دعوے کرتا تھا، اب کس طرح معبودان باطلہ کے سامنے جھک کر ذلیل و خوار ہو چکا ہے اور یہ صرف حکومتوں کی بات نہیں۔حکومتیں مجموعہ ہیں انسانی سوچ کا ، ہر ملک کے باشندے جو سوچ رکھتے ہیں جوطر زفکر رکھتے ہیں، جو ان کا قبلہ ہے وہی ان کی حکومتوں کے طرز عمل میں منعکس ہوتا ہے۔پس حکومتوں کے یہ رویے اگر عوام الناس برداشت کرتے ہیں تو دراصل وہ جانتے ہیں کہ یہی ہماری آخری تمنا ہے۔ہمیں روٹی ملے خواہ ذلت اور رسوائی کے ساتھ ملے ہمیں طاقت نصیب ہو خواہ غیروں کے سامنے ہاتھ پھیلا کر طاقت نصیب ہو، ہمیں اس دنیا کی دولتیں ملیں خواہ غیروں کے بھکاری بن کر یہ دولتیں ملیں ، ہمیں پیٹ کی روٹی ملے خواہ اس کے لئے مشرق کے سامنے بھی ہاتھ پھیلا نا پڑے اور مغرب کے سامنے بھی ہاتھ پھیلا نا پڑے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں یہ سارے جھوٹے خدا ہیں۔ان سے جب تک تو بہ کر کے خدا ہی کو اپنا رازق نہ بنایا جائے ، اسی کو سب عزتوں کا مالک نہ بنایا جائے ،سب ذلتوں کا اختیار اسی کے ہاتھ میں نہ سمجھا جائے اس وقت تک انسان تو حید کامل کو اختیار نہیں کر سکتا اور جب یہ ہو جائے تو پھر خدا کی محبت دل میں اس طرح موجزن ہوتی ہے جیسے سمندر کی لہریں طوفانوں کے وقت موجزن ہوا کرتی ہیں۔کوئی غیر وہاں نہیں رہتا خدا کی بادشاہی ہے جو اس دل پر قائم ہوتی ہے اور اس کی موج کی ہر حرکت اس کی طرف ہوتی ہے پھر فرماتے ہیں۔دو۔۔۔اپنا تذلل اسی سے خاص کرنا ، ( اسی کے سامنے جھکنا اور غیر کے سامنے نہ جھکنا ) اپنی امیدیں اسی سے خاص کرنا ، اپنا خوف اسی سے خاص کرنا۔پس کوئی تو حید بغیر ان تین قسم کی تخصیص کے کامل نہیں ہوسکتی۔۔۔“ وہ تین کون سی قسمیں ہیں جو ابھی بیان ہو گئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔وو۔۔۔اول ذات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ اس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھنا اور تمام کو هالكة الذات اور باطلة الحقیقت خیال کرنا۔“