خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 276 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 276

خطابات طاہر جلد دوم 276 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۲ء بحران میں مبتلا کیا جائے تو وہ لازماً اس میں مبتلا ہو گا۔وہ بحیثیت مجموعی اس کی طرف دھکیلا جائے گا اور اس کے نتیجے میں پھر جو خوفناک نتائج نمودار ہوں گے ، خوفناک جنگوں میں جھونکا جائے گا۔یہ سب خدا کی طرف سے ظلم کے طور پر نہیں بلکہ انسان کے شرک کے ظلم کے نتائج ہیں جو اسے دکھائے جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔۔۔کوئی معز اور کوئی مذل خیال نہ کرنا۔۔۔“ خدا کے مقابل پر نہ کوئی عزت دینے والا ہے نہ کوئی ذلت دینے والا ، جو خدا کے ہو جاتے ہیں وہ دنیا کی عزتوں اور دنیا کی ذلتوں سے بے نیاز ہو جاتے ہیں انہیں کسی اور عزت اور ذلت کی پرواہ نہیں رہتی۔وو۔۔۔کوئی ناصر اور مددگار قرار نہ دینا۔۔۔“ وہی ہے جو نصرت فرماتا ہے ، وہی ہے جو مصیبت زدہ کی مدد کرتا ہے۔وو۔۔۔اور دوسرے یہ کہ اپنی محبت اسی سے خاص کرنا۔۔۔یہ وہ لا اللہ کا یعنی کلمہ طیبہ کا دوسرا جز ہے الا اللہ محض منفی کوششوں تک نہ ٹھہر جانا اپنے دلوں سے بھی دوسرے بتوں کو نکال باہر پھینکنا اس سفر کی پہلی منزل ہے۔اس کے معا بعد دوسری منزل میں داخل ہونا ضروری ہے اور وہ منزل ہے اللہ تعالیٰ کی خالص محبت دل میں پیدا کرنا اور خدا کی خالص محبت ان دلوں میں جاگزیں ہو ہی نہیں سکتی ، ان دلوں میں پناہ لے ہی نہیں سکتی جن دلوں میں غیر کی محبت موجود ہو۔پس یہ ایک منطقی نتیجہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نکالا کہ پہلے باطل خداؤں کو دل سے نکال باہر پھینکو پھر خدا کی محبت کے طلبگار ہو۔۔۔۔اپنی عبادت اسی سے خاص کرنا، اپنا تدل اسی سے خاص کرنا۔۔۔“ لوگ دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں سے مرعوب ہو جاتے ہیں، تو میں مرعوب ہو جاتی ہیں اور ان کے سامنے تذلل اختیار کرتی ہیں اور انسان حیرت سے دیکھتارہ جاتا ہے کہ کل تک یہ لوگ کس طرح سرفرازی کے دعوے کرتے تھے اور آزادی کے دعوے کرتے تھے اور یہ کہا کرتے تھے کہ نہ ہمیں امریکہ کی پرواہ ہے، نہ ہمیں انگلستان کی پر واہ ہے، نہ ہمیں جاپان کی پرواہ ہے، نہ چین کی پرواہ ہے، کون ہے جو ہمارے معاملات میں دخل دے لیکن جب حالات بدلیں اور وہ مجبور ہو جائیں ان سے