خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 275
خطابات طاہر جلد دوم 275 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۲ء جب تک ہم خدا کی طرف پاک وصاف ہو کر خالصہ اللہ ہوکر منہ نہ کر لیں اس وقت تک ہماری عبادتوں میں رخنے پڑتے چلے جائیں گے۔یہ تو ہم عرض کر سکتے ہیں کہ اے خدا ہم کمزور ہیں، ہم داغدار ہیں ، ہم گنہ گار ہیں تو ہماری کمزوریوں سے صرف نظر فر مالیکن محض یہ دعا کافی نہیں۔جب تک خدا سے نور نہ مانگیں، خدا سے ہدایت طلب نہ کریں ، اس سے طاقت حاصل نہ کریں اور اس سے یہ شعور نہ مانگیں کہ ہم اپنے نفس کے پیچ در پیچ اندرونی حالات سے واقف ہو جائیں اور اپنی نیتوں کے بل اور فریب سے پوری طرح آگاہ ہو جائیں، یہ وہ مشکل سفر ہے جسے لا الہ کا سفر قرار دیا جاسکتا ہے۔بے انتہابت ہیں جو انسان کی زندگی میں اُس کے نفس میں چھپے پڑے ہیں۔ان بتوں کو ایک ایک کو تلاش کر کے اس کا سر پاش پاش کرنا یہ موحد کا کام ہے اور جہاں ایک بت ٹوٹے گا وہاں خدا کا ایک جلوہ آپ کی ذات میں ظاہر ہو گا۔یہ وہ توحید کا سفر ہے جس کی طرف میں تمام بنی نوع انسان کو بلا تا ہوں اور جماعت احمدیہ کو تاکید کرتا ہوں کہ تمام بنی نوع انسان کو بلانے سے پہلے اپنے دلوں کو توحید خالص کے لئے خدا کے حضور پیش کر دیں اور اپنے ہر باطل بت کو پاش پاش کر دیں۔جب تک وہ خالص نہیں ہوتے بنی نوع انسان کو خالص کرنے کا حق نہیں رکھتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔وو۔۔۔اور اس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا کوئی رازق نہ ماننا۔۔۔“ وہی ہے جو روزی دیتا ہے اسی کے ہاتھ میں تمام دولتیں ہیں، رزق کے تمام سر چشمے اس کے ہاتھ میں ہیں ، وہ چاہے تو رزق وافر دے وہ چاہے تو رزق چھین لے۔جب وہ رزق چھینتا ہے تو بڑی بڑی قوموں کی بھی کچھ پیش نہیں جاتی۔آج کل انسان بحیثیت مجموعی جس اقتصادی بحران کا شکار ہو رہا ہے وہ لوگ جو اقتصادیات پر نظر رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ بڑی بڑی حکومتوں کے کوئی منصوبے خدا تعالیٰ کی تقدیر کے سامنے کچھ کام نہیں کر سکتے۔وہ جتنی چاہیں تدبیریں کریں جتنی چاہیں سربراہی کانفرنسیں منعقد کریں ، جب خدا کی طرف سے یہ حکم آتا ہے کہ دنیا کو رزق کی تنگی دی جائے اور اس طرح اسے خدائے واحد کی طرف واپس لانے کی کوشش کی جائے تو پھر تمام دنیا کی طاقتیں بیکار ہو جاتی ہیں، ان کے سارے منصوبے باطل ہو جاتے ہیں، ان کو ہوش نہیں آتی ، ان کو عقل نہیں رہتی ، ان کی ساری تعلیمات صفر کی طرح ہو جاتی ہیں اور انسان کو اگر خدا چاہے کہ ایک عالمی اقتصادی