خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 255 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 255

خطابات طاہر جلد دوم 255 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء فضل سے احمدیت میں داخل ہو گئے لیکن مجھے فکر تربیت کی ہے کہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں مذہب کا زیادہ علم نہیں جہاں مسلمان اکثر صورتوں میں نہ نماز جانتے ہیں نہ مساجد سے ان کا تعلق ہے اور بعض مساجد مسلمان گاؤں میں ہوتے ہوئے ویران پڑی ہیں۔ایک آدمی ہے جس کے پاس چابی ہے اکثر تالا لگا رہتا ہے، کبھی اس کو خیال آیا تو جا کر اذان بھی دے دی یا بغیر اذان دیئے ہی نماز پڑھ لی اور سارا گاؤں اُس سے غافل ہے تو ایسی جگہ ہمیں ایسے مدرسین اور صوفیاء کی ضرورت ہے جیسے گزشتہ زمانوں میں جو بزرگ تشریف لائے اور جگہ جگہ دھونی رما کر بیٹھ رہے۔اس لئے میں جماعت احمدیہ بھارت سے یہ توقع رکھتا ہوں اور ان سے ملتیجی ہوں کہ ان میں سے وہ لوگ جو زندگی کا اکثر حصہ گزار چکے ہیں اور عمر کے آخری کنارے پر پہنچ رہے ہیں وہ بے کار وقت نہ گزار ہیں۔وہ اپنی خدمتیں اس اہم دین کے کام کے لئے پیش کر دیں اور اُن کو باقاعدہ نظام کے تحت مختلف جگہوں پر بٹھا دیا جائے گا ان کا کام وہاں بیٹھنا، دعائیں کرنا ہے اور اُن لوگوں کی دینی ضرورتیں پوری کرنا ہے۔چھوٹے چھوٹے مدر سے جاری کر دینے ہیں جہاں کے بچوں کی تعلیم و تربیت کی جائے۔کسی سے جھگڑا نہیں کرنا، غیر معمولی علم کی بھی ضرورت نہیں ہے، تلاوت صحیح جانتے ہوں، پڑھ کر ہی ترجمہ سکھا نا شروع کر دیں۔نیکیوں کی تعلیم دیں، اُن کو دعائیں سکھائیں ، ان کے لئے دعائیں کریں۔غرضیکہ روحانیت کا ایک چشمہ جاری کر دیں۔اس قسم کے لوگوں کی ضرورت ہے جو ریٹائر ہو گئے ہیں یا ویسے اپنے کاموں سے فارغ ہو گئے ہیں۔میں امید رکھتا ہوں کہ یہ دوست اپنے نام پیش کریں گے لیکن متنبہ کرتا ہوں کہ کام مشکل ہے، آسان سمجھ کر نہ آئیں۔دور دراز علاقوں میں ایسی جگہ جہاں دنیا کی ترقی یافتہ صورتوں کی بعض جگہ خبریں بھی نہیں پہنچیں بجلی نہیں ہے، پانی کا انتظام نہیں ہے، بعض جگہ ہے بھی بعض جگہ نہیں ہے۔روزمرہ کی رہن سہن کی سہولتیں جن کی آجکل دنیا کو عادت پڑ چکی ہے وہ سہولتیں مہیا نہیں ہیں۔پس جو لوگ بھی خدمت کا ارادہ کر کے وہاں جائیں اس نیت سے جائیں کہ ہم بیٹھیں گے۔خدا کی خاطر دھونی رمائیں گے ، ایک فقیر بن جائیں گے، اُن بزرگوں کی پیروی کریں گے جو کسی زمانے میں ہندوستان آئے تھے جگہ جگہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اپنی درس گاہیں قائم کیں نصیحتوں کا سلسلہ جاری فرمایا اور آج اس عظیم مقام کو پہنچ گئے ہیں کہ سارے ہندوستان میں شمال سے جنوب تک اُن کی شہرت ہے اور بڑی عزت اور احترام کے ساتھ ان کا نام یاد کیا جاتا ہے۔