خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 254
خطابات طاہر جلد دوم 254 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء انسان کی خدمت کرتے ہیں۔یہ ایک طبعی سلسلہ ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا لیکن خدمت کا تعلق ایک اور خدمت سے بھی ہے اور اس اعلیٰ درجے کے عرفان کے ساتھ اگر خدمت کو دین کی نشر و اشاعت سے وابستہ سمجھا جائے تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔کوئی منافقت نہیں ہے وہ بات یہ ہے کہ ہم تو خدمت کرتے ہیں اللہ کی خاطر اور اللہ کی خاطر اللہ کے بندوں سے پیار رکھتے ہیں، ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اب ہم سمجھتے ہیں ہم جانتے ہیں کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے تو ایک سب سے اعلیٰ خدمت تو بنی نوع انسان کی یہ ہے کہ جس خزانے سے ہم دنیا جہان کی برکتیں پارہے ہیں اُس خزانے کی طرف دوسروں کو بھی تو بلائیں۔پس تبلیغ کا کام بھی دراصل ایک اعلیٰ درجے کی خدمت ہے لیکن چھوٹے پیمانے پر جب ایک کو دوسرے سے وابستہ کریں تو اس کے نتیجے میں بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور بعض دفعہ بات کا اثر جاتا رہتا ہے۔ایک طرف سے آپ خدمت کر رہے ہیں دوسری طرف سے لٹریچر تقسیم کر رہے ہیں کہ آؤ جی ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ نہ آپ کا لٹریچر کسی کام آئے گا نہ آپ کی خدمت کسی کام آئے گی۔وہی بات ہوگی کہ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے تو خدمت کرتے وقت ہرگز فوری طور پر دین کے پھیلاؤ کی صورت میں اس کا اجر نہ چاہیں ان دونوں کو ایک دوسرے سے وابستہ نہ کریں اگر اس طرح کریں گے تو نہ آپ کو ایک فائدہ حاصل ہو گا نہ دوسرا فائدہ حاصل ہو گا۔جب خدمت کریں تو خدمت کی نیت سے جب تبلیغ کے لئے جائیں تو تبلیغ کی نیت سے ، خدا کی طرف بلانے کی نیت سے۔بہت سے واقعات ہندوستان کے ایسے تھے جو میرے پاس موجود ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن جماعتوں کے بڑے دلچسپ تذکرے ہیں جو بیدار ہو رہی ہیں اور تبلیغ کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں۔اگر چہ افریقہ جیسا سماں تو پیدا نہیں ہوا لیکن یہ ضرور ہو گیا ہے کہ بعض دیہات جن میں سینکڑوں مسلمان بستے ہیں وہ پورے کے پورے اپنی مساجد سمیت احمدی ہونے شروع ہوئے ہیں لیکن اس سلسلے میں تربیت کی بہت ضرورت ہے مثلاً ابھی حال ہی میں آندھرا پر دیش سے یہ اطلاع ملی تھی کہ ہمارے تبلیغی وفد کے دورے کے نتیجے میں ایک ہی مقام پر آٹھ صد بیعتیں ہوئیں اور وہ تقریباً تمام کا تمام گاؤں ہی یعنی اس گاؤں کے مسلمان خدا کے