خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 239 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 239

خطابات طاہر جلد دوم 239 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء مقبول میہ کی محبت دل پر غالب آ جائے اور ایسی حالت انقطاع پیدا ہو جائے جس سے سفر آخرت مکر وہ معلوم نہ ہو۔“ ( یعنی موت کا ویسا ڈر نہ رہے جیسے دنیا دار کوڈر ہوا کرتا ہے بلکہ کچھ حرص بھی موت کے ساتھ وابستہ ہو جائے، کچھ اگلی دنیا کی دید کی خواہش بھی اس میں شامل ہو جائے اور موت کے لمحات مکروہ نظر نہ آئیں) و لیکن اس غرض کے حصول کے لئے صحبت میں رہنا اور ایک حصہ اپنی عمر کا اس راہ میں خرچ کرنا ضروری ہے تا اگر خدائے تعالیٰ چاہے تو کسی بُرہانِ یقینی کے مشاہدہ سے کمزوری اور ضعف اور کسل دُور ہو اور یقین کامل پیدا ہو کر ذوق اور شوق اور ولولہ عشق پیدا ہو جائے۔سو اس بات کے لئے ہمیشہ فکر رکھنا چاہئے اور دُعا کرنا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ یہ توفیق بخشے اور جب تک یہ توفیق حاصل نہ ہو کبھی کبھی ضرور ملنا چاہئے کیونکہ سلسلہ بیعت میں داخل ہو کر پھر ملاقات کی پروا نہ رکھنا ایسی بیعت سراسر بے برکت اور صرف ایک رسم کے طور پر ہوگی۔“ ( آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۵۱) یہ جو حصہ ہے یہ بطور خاص بڑی شان کے ساتھ اس جلسہ سالانہ پر صادق آ رہا ہے۔ہندوستان کی جماعتوں میں سے خصوصیت کے ساتھ اس کثرت سے لوگ اس جلسے میں شامل ہوئے ہیں کہ میں نے ایک ایک جماعت کا جائزہ لے کر یہ معلوم کیا کہ آغاز احمدیت سے لے کر آج تک اُن علاقوں سے کبھی اتنی تعداد میں لوگ یہاں تشریف نہیں لائے تھے اور جب اُن سے پوچھا گیا تو اُنہوں نے کہا قادیان کی زیارت کا شوق تو تھا ہی لیکن اُس صورت میں کہ خلیفہ وقت وہاں موجود ہو۔اللہ نے ہمیں یہ موقع عطا فرمایا اور غربت کے باوجود تنگی ترشی کے باوجود جس حد تک بن سکا ہم نے یہاں پہنچنے کی کوشش کی۔ایک جماعت کے دوستوں سے جب میں نے پوچھا کہ کتنے تشریف لائے انہوں نے کہا کیا پوچھتے ہیں گھروں کو تالے پڑ چکے ہیں پیچھے کوئی نہیں رہا اور اسی طرح دُور دُور کی جماعتوں سے تین دن اور تین راتوں کی سخت تکلیف دہ مسافت کا سفر اختیار کرتے ہوئے بہت کثرت سے ہجوم در ہجوم عورتیں اور بچے اور مرد یہاں شامل ہوئے ہیں اور اس پہلو سے بھی یہ جلسہ ایک تاریخی جلسہ بن چکا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منشا مبارک کے عین مطابق ہے۔فرمایا