خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 240 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 240

خطابات طاہر جلد دوم 240 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء کبھی کبھی ضرور ملنا چاہئے کیونکہ سلسلۂ بیعت میں داخل ہو کر پھر ملاقات کی پرواہ نہ رکھنا ایسی بیعت سراسر بے برکت اور صرف ایک رسم کے طور پر ہوگی۔“ ’اور چونکہ ہر ایک کے لئے باعث ضعف فطرت یا کمی مقدرت یا بعد مسافت یہ میسر نہیں آسکتا کہ وہ صحبت میں آکر رہے یا چند دفعہ سال میں تکلیف اُٹھا کر ملاقات کے لئے آوے۔کیونکہ اکثر دلوں میں ابھی ایسا اشتعال شوق نہیں کہ ملاقات کے لئے بڑی بڑی تکالیف اور بڑے بڑے حرجوں کو اپنے پر روا رکھ سکیں لہذا قرین مصلحت معلوم ہوتا ہے کہ سال میں تین روز ایسے جلسہ کے لئے مقرر کئے جائیں جس میں تمام مخلصین اگر خدا تعالیٰ چاہے بشرط صحت و فرصت و عدم موانع قویه تاریخ مقررہ پر حاضر ہوسکیں۔سو میرے خیال میں بہتر ہے کہ وہ تاریخ ۲۷ / دسمبر سے ۲۹؍ دسمبر تک قرار پائے یعنی آج کے دن کے بعد جو۳۰ / دسمبر ۱۸۹۱ء ہے۔آئیندہ اگر ہماری زندگی میں 27 دسمبر کی تاریخ آجاوے تو حتی الوسع تمام دوستوں کو محض اللہ ربانی باتوں کے سننے کے لئے اور دُعا میں شریک ہونے کے لئے اُس تاریخ پر آ جانا چاہیئے۔یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو ۲۷ / دیسمبر اور ۲۸ / دیسمبر اور ۲۹/ دسمبر یہ تین دن جلسہ سالانہ کے مقرر فرمائے تھے۔پھر یہ کیوں تبدیل ہوئے اور 26 کو کیوں یہ جلسہ شروع کیا گیا اور علم کے باوجود کیوں 26 ہی کو رکھا گیا ؟ جب جلسے کی تاریخیں 27،26، 28، مقرر ہوئیں تو چونکہ مجھے بچپن سے قادیان میں انہی تاریخوں میں جلسے کے منعقد ہونے کی یاد تھی اس لئے مجھے تعجب نہیں ہوا لیکن جلسے کی تیاری کے دوران جب پہلے جلسے کی روئیداد کا مطالعہ کیا تو اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے از خود اپنی طرف سے 27 تاریخ کو جلسے کا آغاز تجویز فرمایا تھا۔اُسی وقت قادیان سے رابطہ کیا گیا اور اُس کے علاوہ ربوہ لکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں تمام جلسوں کی تاریخوں کا مطالعہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی ہی میں آپ کی اجازت سے ان تاریخوں میں تبدیلی کی گئی۔ایک سے زائد بار تبدیلی کی گئی اور 26، 28،27 کی تاریخوں کا تقرر بھی حضرت