خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 226 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 226

خطابات طاہر جلد دوم 226 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُوْنَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَيْكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ( آل عمران: ۱۰۵) اس کام کو ہمیشہ کے لئے جاری رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ تم میں سے ہمیشہ گروہ در گروہ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں جو اس کام کے لئے وقف ہو جائیں۔ہمیشہ بنی نوع انسان کو برائیوں سے روکتے رہیں اور نیکیوں کی تعلیم دیتے رہیں۔اس ضمن میں میں آپ کو یہ بات سمجھانا چاہتا ہوں کہ جن لوگوں کو نیکیوں کی تعلیم دینے کا حکم ہے اور برائیوں سے روکنے کا حکم ہے۔یہاں مسلمان مراد نہیں بلکہ مومنوں کی جماعت ، وہ مومنوں کی جماعت مخاطب ہے جو خود نیکیوں کو اختیار کر چکی ہے اور بدیوں سے رک چکی ہے۔ایک جگہ فرمایا يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْشَونَ عَنْهُ (الانعام: ۲۷) محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھی ایسے ہیں جو منع کرتے ہیں اور خود بھی منع ہوتے ہیں۔ایسے لوگ نہیں ہیں جو دوسروں کو تو منع کرتے ہیں اور خود منع نہیں ہوتے تو یہاں غیر مراد ہیں اور یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ مذہب اسلام اختیار کریں تمہارے لئے ضروری ہے کہ ہدایت کا کام جاری کر دو۔یہ انتظار نہ کرو کہ وہ تمہارے ساتھ اعتقاد میں اتفاق کریں۔کیونکہ حسن و قبح کی ایک پہچان خدا تعالیٰ نے انسان کو بخشی ہے۔کسی بھی مذہب سے وہ تعلق رکھتا ہو اس کو خدا تعالیٰ نے فطرت میں یہ ملکہ ودیعت فرمایا ہے کہ وہ برائی کو خوبی سے الگ دیکھتا ہے اور خوبی کو برائی سے الگ جانتا ہے۔فرمایا! اس کی فطرت کی آواز تمہاری تائید کرے گی۔کیوں اس تائید سے فائدہ نہیں اٹھاتے؟ جب خدا تعالیٰ نے فطرت کی ہوائیں تمہاری تائید میں چلا رکھی ہیں اور بدیاں فطرت کے خلاف کی جارہی ہیں تو تم نیکی کی تعلیم دینا شروع کر دو اور یہ انتظار نہ کرو کہ لوگ پہلے محمد رسول اللہ پر ایمان لے آئیں پھر تم ان کو نیکی کی تعلیم دو۔اگر تم ایسا کرو گے تو لوگ تمہارے ہاتھ سے نکل جائیں گے جو لوگ بدیوں میں آگے بڑھ رہے ہیں وہ کیسے محمد رسول اللہ کی اطاعت میں داخل ہوں گے؟ ان کے حالات درست کرو، اس قابل تو بناؤ کہ محمد رسول اللہ کی پیروی کرسکیں۔اس کے بغیر وہ کیسے محمد رسول اللہ کی پیروی کی اہلیت اختیار کریں گے؟ اب آپ دیکھیں آپ کا تجربہ ہے خصوصیت سے مغرب میں بھی، بعض پہلوؤں سے