خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 219 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 219

خطابات طاہر جلد دوم 219 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء بڑھاؤ کہ اے خدا! موت کا تو ہمیں کوئی اختیار نہیں۔نہ زندگی پر اختیار نہ موت پر اختیار لیکن جتنا اختیار تو نے ہمیں دیا اس اختیار کے تابع ہم تیری طرف آگے بڑھنے لگے ہیں، یہ وہ راہ ہے جو لامتناہی ہے۔کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص اپنی طاقت سے مسلم حالت میں مرجائے کیونکہ لا متناہی را ہیں وہ ہیں جو لا متناہی وجود کی طرف چلتی ہیں۔پس کسی انسان کے اختیار ہی میں نہیں ہے۔صرف موت وحیات کا مضمون نہیں ہے بلکہ کسی انسان کو ابدی زندگی بھی نصیب ہو تب بھی وہ اپنے طور پر مسلم ہونے کا حق ادا نہیں کر سکتا۔تو حَقَّ تُقتِہ کا مضمون یہاں ان معنوں میں ظاہر ہوگا کہ تم اپنی سی کوشش ضرور کرو اور تمہارا حق ادا کرنا تمہاری کمزوریوں کے تعلق میں ہے۔اگر تمہیں حق ادا کرنے کی توفیق ہی خدا نے نہیں دی تو ان معنوں میں تم حق ادا نہیں کر سکتے ، ان معنوں میں تم مکلف نہیں بنائے گئے۔تمہیں جن باتوں کا مکلف کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اپنی سی توفیق کے مطابق تقویٰ کا حق ادا کرنے کی کوشش شروع کر دو۔چنانچہ جب یہ سفر انسان شروع کرتا ہے تو صاحب تجر بہ ہر انسان جانتا ہے کہ قدم آگے بڑھانے کے بعد نئی ذمہ داریاں ظاہر ہونے لگتی ہیں، اس کے تعلقات کے دائرے وسیع ہونے لگتے ہیں، اس کی ذمہ داریاں وسیع ہونے لگتی ہیں اور حق ادا کرنے کی توفیق بڑھتی چلی جاتی ہے۔وہ باتیں جو آپ کی نظر سے غائب تھیں جن کو آپ حق سمجھتے ہی نہیں تھے وہ حق کے طور پر سامنے اٹھتی ہیں اور تقاضے کرنے لگتی ہیں اور آپ خدا سے دعائیں مانگتے ہوئے اور شرماتے ہوئے ان تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں۔پھر جس حالت میں بھی موت آئے گی وہ انسانی نقطۂ نظر سے دیکھیں، انسانی زاویے سے دیکھیں تو وہ بظاہر ایک نامکمل موت ہوگی کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا خدا تعالیٰ کی جانب سفر تو ایک لامتناہی سفر ہے پھر کیسے مسلم کہلائیں گے؟ یہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تسلی دینے کی خاطر مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کا مضمون بیان فرمایا کہ دیکھو جز اسرا کے دن کا مالک خدا ہے۔جس حالت میں تم جان دو گے وہ تمہارا یوم جزا بن جائے گا اور چونکہ مالک خدا ہے اس لئے مالک کا حساب نہیں لیا جاتا۔تمہارا حساب لیا جاتا ہے۔مالک چاہے تو جو چاہے عطا کر دے۔پس مالک سے تعلق جوڑو اور مالک سمجھتے ہوئے اس کی راہ میں آگے قدم بڑھاؤ۔تب تمہیں ملکیت کی صفات عطا کی جائیں گی۔