خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 218 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 218

خطابات طاہر جلد دوم 218 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء پھیلا ہوا ہے لیکن انسان اس سے واقف نہیں ہے۔پہلا قدم واقفیت کا قدم ہے اور یہ قدم جیسا کہ میں نے بیان کیا حیا سے اٹھتا ہے۔اس کے بعد جس حالت میں بھی موت آئے وہ مسلم کی حالت ہے۔پس یہ مطلب نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسی چیز کا پابند کر دیا جس کا اختیار نہیں دیا گیا۔یہ تو نعوذ باللہ من ذالک ایک ظالم خدا ہے اگر وہ ہمیں یہ کہے کہ مرد نہیں جب تک تم مسلم نہ ہو جاؤ اور ہمیں موت کا اختیار نہ دے اور جب چاہے بلالے پیشتر اس سے کہ ہم مسلم ہو چکے ہوں۔اس میں یہ عظیم خوشخبری عطا کی گئی ہے کہ اگر تم خدا کے لئے تقویٰ اختیار کرو گے اور اس کی راہ میں آگے بڑھنے کی پُر خلوص کوشش شروع کر دو گے تو چونکہ موت کا اختیار خدا کے ہاتھ میں ہے خدا تعالیٰ ایسا کرے گا کہ تم نہیں مرو گے جب تک تم اس کے حضور مسلم نہ بن چکے ہو۔یہ وہ عظیم الشان وعدہ ہے جو ہمیں عطا کیا گیا ہے۔جو اختیار ہمارا ہے وہ ہم نے کرنا ہے جو اختیار خدا کا ہے اور اس کو ہر اختیار ہے لیکن اس مضمون میں اس کا اختیار یہ ہے کہ آپ کو اس وقت واپس بلائے جب آپ مسلم ہو چکے ہوں۔پس جو سفر آپ نے خدا کی راہ میں حیا سے شروع کیا وہ سفر بڑھتے بڑھتے اور مضامین کا سفر بن گیا، آپ کا حقوق کا سفر بن گیا۔ہرلمحہ آپ کی زندگی کا ہر عمل خدا کی نظر کے سامنے آ گیا آپ کو چھپنے کی کوئی جگہ باقی نہ رہی۔آپ خدا سے دعائیں کرتے ہوئے آگے بڑھے کہ اے خدا! میں تو نگا ہوتا چلا جارہا ہوں میرے بدن کو یہاں سے بھی ڈھانپ اور وہاں سے بھی ڈھانپ ، اور وہاں سے بھی ڈھانپ اور وہاں سے بھی ڈھانپ یہاں تک کہ مجھے پورا لباس تقوی نصیب ہو جائے۔ایسی حالت میں جب بھی اس پر موت آئے وہ موت خدا کے نزدیک اسلام پر موت ہوگی اور خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو ضر ور توفیق عطا فرماتا ہے کہ اس سفر کو مکمل کر لیں اور جن کا سفر مکمل نہ ہو جہاں سے بھی وہ کاٹا جائے خدا کی رحمت اسے مکمل سفر قرار دیتی ہے کیونکہ وہ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے، صرف رَبِّ العلمین نہیں ہے بلکہ اس مضمون کو وہاں پہنچایا گیا جس کے بعد ہر سوال حل ہو جاتا ہے۔فرمایا! تم ربوبیت کا سفر اختیار کرو، لوگوں کے لئے رب بنے کی یعنی رحمت بنے کی کوشش کرو پھر سب معاملہ خدا کے سپرد کر دو اور یہاں مُسلِمُونَ کا یہ معنی بن جاتا ہے کہ تم اپنے حالات، اپنے وجود کو خدا کے سپر دکر دو، اپنے غموں اور اپنے فکروں کو بھی خدا کے سپر د کر دو، اپنی تمناؤں اور خوشیوں کو بھی خدا کے سپر د کر دو، اپنی آرزوؤں اور اپنے مقصود کو خدا کے سپرد کر دو۔یہ کہتے ہوئے قدم