خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 217
خطابات طاہر جلد دوم 217 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء عام ہونا چاہئے اور عام ہوتے ہوئے اسے زندگی کے ہر جز و پر حاوی ہو جانا چاہئے۔یہ وہ مضمون ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی امی کی ذات میں رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبیاء : ۱۰۸) کے طور پر دنیا کے سامنے پیش فرمایا گیا ہے۔آپ کو رَبُّ الْعَلَمِینَ نہیں کہا گیا کیونکہ اس سے غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی تھیں مگر رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ کا مضمون ربوبیت کی ایک اور شان ہے۔بندوں کے تعلق میں جب انسان اپنے رب کے پیچھے چلتے ہوئے ربوبیت کی صفات اختیار کرتا ہے تو اسے رحمت کہا جاتا ہے اور رحمت کا مطلب ہے اس کا فیض دوسروں تک ضرور پہنچے گا۔پس جب تک آپ کا فیض آنحضرت ﷺ کی غلامی میں تمام بنی نوع انسان پر ممند نہ ہو جائے ، جب تک آپ کا فیض کل عالم کو نہ ڈھانپ لے نہ حقیقت میں آپ حمد کا مضمون سمجھنے والے ہیں نہ حقیقت میں آپ تمام بنی نوع انسان کو اور کل عالم کو اللہ کی حمد کے لئے تیار کرنے والے کہلا سکتے ہیں۔اس مضمون کی وسعتوں میں جانے کا تو وقت نہیں ہے۔یہ ایک افتتاحی تقریر ہے مگر آج کی آیات کا انتخاب میں نے اسی خاطر کیا تھا کہ اس مضمون پر کچھ نہ کچھ روشنی ضرور ڈالوں۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَتِهِ بِ شخص کا حَقَّ تُقَتِهِ الگ الگ معنے رکھتا ہے۔ایک ادنی آدمی جو صرف حیا کا مقام اختیار کرتا ہے اس کا حق تقیہ یہ معنے رکھتا ہے کہ اس نے خدا کا تقویٰ اختیار کرنے کی طرف سفر شروع کر دیا ہے، وہ حیادار ہو گیا ہے اور جب وہ آگے بڑھتا ہے تو یہ مضمون ساتھ ساتھ آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور حق بڑھنے لگتے ہیں یہاں تک کہ حق اتنے وسیع ہوتے چلے جاتے ہیں کہ انسان خوف کھاتا ہے۔پہلے وہ ان حقوں سے واقف نہیں تھا پھر وہ حقوں سے واقف بنتا چلا جاتا ہے اس کے سارے تعلقات پر یہ مضمون چھا جاتا ہے۔بیوی سے تعلقات کے وقت بھی حق تقیہ کی آواز اٹھنے لگتی ہے، بچوں سے تعلقات کے وقت بھی حَقَّ تُقتِہ کی آواز اٹھنے لگتی ہے، ہمسایوں سے تعلقات کے وقت بھی حق تقیہ کی آواز اٹھنے لگتی ہے، مالک سے تعلقات کے وقت بھی اور ان سے تعلقات کے وقت بھی جن کو آپ کے ہاتھوں کے تابع کیا گیا اور یہ مضمون ایک لامتناہی مضمون بن جاتا ہے اور اسی پہلو سے سارے عالمین پر چھا جاتا ہے کیونکہ انسان کے کل عالم سے تعلقات ہیں۔پس انسان کا شعور بیدار ہوتا ہے اور اس شعور کی وسعت کے ساتھ رب العلمین کا مضمون اس کے ساتھ ساتھ پھیلتا چلا جاتا ہے۔وہ مضمون تو ہمیشہ سے