خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 186 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 186

خطابات طاہر جلد دوم 186 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء مہدی منیا، ہم نے مہدی کو مانا اور اس کے نتیجے میں ہمیں ہتھکڑیوں کے زیور پہنے نصیب ہوئے چنانچہ ہم نے چوم چوم کے انہیں بانہوں میں ڈالا۔۸۱ سال کی عمر ، دمہ کا مریض ، کبھی ہسپتال میں کبھی جیل میں بس یونہی چکر لگتے رہے۔نہ گھر رہا نہ دکان ، مکان والے نے کہا تم مکان خالی کردو، تم قادیانی ہو۔دُکان پولیس نے قبضے میں کر لی۔“ یہ وہ لوگ ہیں جو اتنے مصائب کے بعد اس قدر تکلیفوں کے ہوتے ہوئے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے استقامت کا اعجاز پاتے ہیں اور ایسے ہی لوگ ہیں جن کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالیٰ کے حضور عرض کرتے ہیں۔”اے خدا! اس مصیبت میں ہمارے دل پر وہ سکینت نازل کر جس سے صبر آ جائے اور ایسا کر کہ ہماری موت اسلام پر ہو۔جاننا چاہئے کہ دکھوں اور مصیبتوں کے وقت میں خدا تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے دل پر ایک نور اتارتا ہے جس سے وہ قوت پا کر نہایت اطمینان سے مصیبت کا مقابلہ کرتے ہیں اور حلاوت ایمانی سے ان زنجیروں کو بوسہ دیتے ہیں جو اس کی راہ میں ان کے پیروں میں پڑیں۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد اصفحہ ۴۲۱) پس یہ باتیں جو آپ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں میں پڑھا کرتے تھے آج کثرت سے پاکستان کی گلیوں، ان کے شہروں، ان کے دیہات میں رونما ہورہی ہیں اور ہزار ہا احمدی ہیں جنہوں نے خدا کی محبت میں اس سے استقامت پا کر ان زنجیروں کو بوسے دیئے جوان کے ہاتھوں یا ان کے پاؤں میں ڈالی گئیں۔خدیجہ بیگم صاحبہ لکھتی ہیں کہ کل جمعہ کی نماز کے بعد مسجد نور سے ایک خادم کو پولیس نے گرفتار کر لیا اور اس پر یہ الزام لگایا کہ ایک غیر احمدی مولوی پر حملہ کیا ہے۔“ اب جہاں کلمے کا بہانہ نہ ملے یا اور کوئی ایسا بہانہ نظر نہ آئے ، وہاں سراسر جھوٹے الزامات لگا کر بھی پولیس جس کو چاہے اس کو پکڑ سکتی ہے اور ملک کا قانون پولیس کے جھوٹ کے پیچھے پشت پناہ