خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 13
خطابات طاہر جلد دوم 13 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۲ء ہونے کے لئے چلے گئے۔(اسد الغابہ جلد ۳ صفحہ: ۱۲۳_۱۲۲) جب ابن دغنہ نے حضرت ابو بکڑ سے پناہ واپس لے لی اور ان کے لئے کوئی چارہ کار نہ رہا۔ان کو اتنے دکھ دیئے گئے کہ وہ وہاں رہ نہیں سکتے تھے اس وقت حضرت ابو بکر کہیں جارہے تھے تو ابن دغنہ کی نظر ان پر پڑی۔معلوم ہوتا ہے پرانے تعلقات تھے جذ بہ رحم لوٹ آیا۔اس نے کہا ابو بکر تم کہاں چلے ہو؟ آپ نے فرمایا میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے۔انہوں نے مجھے تکلیف اور دُکھ دینے میں انتہا کر دی ہے۔( بخاری کتاب الحوالات حدیث نمبر ۲۱۳۴۰) حضرت عبید اللہ بن جحش مشرکین مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر آنحضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔چنانچہ یہ مہاجرین کا پہلا قافلہ تھا جو اپنے گھروں سے نکالا گیا۔(الاستعباب فی معرفۃ الاصحاب جلد ۳ صفحہ: ۱۴) حضرت اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ جب فتح مکہ کے روز آنحضور بڑی شان و شوکت کے ساتھ مکہ میں واپس لوٹے تو کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ اپنے گھر میں قیام فرمائیں گے؟ آپ نے فرمایا عقیل نے (یہ آپ کے چچا زاد بھائی تھے ) میرے لئے کون سا گھر چھوڑا ہے؟ ( بخاری کتاب الحج حدیث نمبر : ۱۳۸۵) یعنی میری ہجرت کے بعد میرے رشتہ داروں نے میری ساری جائیداد بیچ باچ کر کھالی ہے۔اب مکہ میں میرے لئے کوئی ٹھکانہ نہیں۔صلى الله پھر یہ معاملہ یہاں تک آگے بڑھا کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ماننے والوں کو اپنی منکوحہ بیویاں رکھنے کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا۔اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھنے کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا اور زبردستی طلاقیں دلوائی گئیں۔وہ کہتے تھے چونکہ تم لوگ صابی ہو گئے ہو نعوذباللہ من ذالک اس لئے تمہارا اب اپنی بیویوں پر کوئی حق نہیں رہا۔یعنی نہ مکانوں پر حق رہا، نہ اپنی بیویوں پر حق رہا، نہ تجارتوں پر حق رہا، نہ اپنی ذات پر حق رہا۔یہ حق بھی نہیں کہ ہم اپنے آپ کو کیا کہیں۔یہاں تک حد کر دی کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کو اپنا ذاتی نام رکھنے کے حق سے بھی محروم کر دیا اور کہا گیا تم اپنے آپ کو محمد کہتے ہو۔یہ تو بڑا پیارا نام ہے یہ تو بڑا اچھا نام ہے۔تمہیں کیا حق ہے کہ تم ایسا نام رکھو۔ہم تمہارا نام رکھیں گے اور مذمم “ نام رکھا۔نعوذ باللہ من ذالک۔( بخاری کتاب المناقب حدیث نمبر : ۳۲۶۸) پس جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جب حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ بیویوں کو خاوندوں سے