خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 146 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 146

خطابات طاہر جلد دوم 146 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۲۲؍ جولائی ۱۹۸۸ء ایسی خبریں اخباروں میں شائع ہونے لگیں۔مرز القمان کو اسلم قریشی اغوا کیس میں فوری طور پر گرفتار کر کے قلعہ میں لے جا کر آئندہ سازش کے بارے میں تفتیش کی جائے۔پھر یہ اعلان شائع ہوا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مرزا لقمان کو اسلم اغواء کیس میں فوری طور پر گرفتار کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔یہ با تیں اخبارات میں شائع ہوتی تھیں اور حکومت ایک کے بعد دوسراکمیشن مقرر کرتی تھی لیکن ایک لمبے عرصے تک یعنی کم و بیش دو سال تک صدر پاکستان خود خاموش رہے اگر چہ ان کے ایماء پر ان کے حکم سے پولیس کے مختلف کمیشن بیٹھتے رہے اور کوشش کرتے رہے کہ جس حد تک ممکن ہو سکے علماء کو بھی راضی رکھیں اور تفتیش کا کام آزادانہ بھی آگے بڑھے لیکن آخر وہ خاموش نہیں رہ سکے اور ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء کو یہ اعلان اخبار میں شائع ہوا کہ صدر پاکستان نے سیالکوٹ کے مولانا اسلم قریشی کی گمشدگی کا معمہ حل نہ کرنے پر سخت نوٹس لیا اور پولیس کو ڈرایا دھمکایا ہے کہ تم کیوں اس معمے کو جلد حل نہیں کرتے۔صدر پاکستان نے پنجاب پولیس کو ہدایت کی ہے کہ ان علماء کی گمشدگی کے بارے میں تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔یہ ایک عالم کس طرح بن گیا۔بات یہ ہے کہ اس کے بعد ایک دو اور علماء بھی روپوش ہونے لگے اور ان سب کا الزام بھی مجھ پر اور جماعت احمدیہ پر لگایا جاتا رہا۔تو جب صدر مملکت نے دیکھا کہ بات بڑھ رہی ہے کہ ایک عالم کی بات نہیں رہی اب تو علماء کا قتل عام شروع ہو گیا ہے تو انہوں نے پھر دخل دینا ضروری سمجھا اور کہا اس معاملے کی تحقیق کی جائے لیکن جو باقی دو علماء تھے تین کا مجھے علم ہے ان کا نام آتا رہا ہے وہ تو بخیر و خوبی گھر پہلے ہی پہنچ گئے تھے یا پولیس نے ویسے ان کو نکلوالیا تھا کہیں سے مگر یہ صاحب غائب رہے۔اس سلسلے میں منظور الہی ملک جو سب سے زیادہ اونچی آواز میں مولانا کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور نہایت ہی بھونڈی زبان میں مجھ پر ہی نہیں صدر مملکت پر بھی حملے کرتے رہے کہ تمہیں اپنی پڑی ہوئی ہے اپنی عیش وعشرت کی اور اتنا عظیم الشان مولا نا گم ہے اور تم کچھ نہیں کرتے۔جب انہوں نے دیکھا کہ کوئی ایسی کارروائی نہیں ہوئی جس سے مولانا کا سراغ ملے تو انہوں نے پھر کھلے عام ایک دھمکی دی۔وہ یہ تھی کہ وہ ۳۰ اکتو بر کو مرکزی جامع مسجد اسلام آباد میں اس وقت تک بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے جب تک مبلغ تحفظ ختم نبوت مولانا محمد اسلم قریشی کے قاتلوں کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار نہیں کیا جاتا۔اللہ تعالیٰ نے جب مجھے یہ توفیق عطا فرمائی کہ میں تمام معاندین احمدیت کو مباحصلے کا چیلنج