خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 9
خطابات طاہر جلد دوم 9 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۲ء وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ أَيْتُنَا بَيِّنَتِ تَعْرِفُ فِي وُجُوهِ الَّذِينَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ يَكَادُونَ يَسْطُونَ بِالَّذِيْنَ يَتْلُونَ عَلَيْهِمْ أَيْتِنَا ( ج ۷۳) اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیات پڑھی جاتی ہیں تو منکروں کے چہروں پر شدید نا پسندیدگی کے آثار نظر آتے ہیں۔تو دیکھتا ہے کہ ناپسندیدگی سے ان کے چہرے بگڑ رہے ہیں۔قریب ہے کہ وہ ان لوگوں پرٹوٹ پڑیں جو ان کے سامنے ہماری آیات کی تلاوت کرتے ہیں۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے سب سے پہلے مکہ کی گلیوں میں تلاوت کے لئے مجھے منتخب فرمایا۔وہ کہتے ہیں ایک دن صحابہ حضور اکرم ﷺ کے گرد بیٹھے ہوئے تھے کسی نے کہا خدا کی قسم ! قریش نے اس قرآن کو بلند آواز سے پڑھا ہوا کبھی نہیں سنا۔کون ہے جو آج ان کو بلند آواز سے قرآن سُنا سکے۔اس پر کسی نے کہا کہ ہمیں ایک ایسے شخص کا انتخاب کرنا چاہئے جس کی کچھ ضمانت ہو۔جس کا خاندان بڑا ہو اور وہ اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہو حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں میں نے کہا مجھے چھوڑو میں جا کر یہ فریضہ ادا کرتا ہوں۔چنانچہ آپ گئے اور مقام ابراہیم کے پاس ضحی کے وقت پہنچے۔قریش اپنی اپنی مجالس میں تھے آپ نے بلند آواز سے قرآن کریم پڑھنا شروع کیا۔مشرکین متوجہ ہوئے اور کہنے لگے ام عبداللہ کے پوتے کی یہ جرات ! پھر کہا یہ کچھ حصہ اس وحی کا پڑھ رہا ہے جو محمد گایا ہے چنانچہ مشرکین آپ کو مارنے لگ گئے اور خاص طور پر منہ اور ہونٹوں پر مارتے تھے۔یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں کہ پھر مجھے اتنادُ کھ پہنچا جتنا اللہ تعالیٰ نے میرے مقدر میں رکھا ہوا تھا۔پھر وہ اپنے ساتھیوں میں واپس لوٹ آئے۔سارا چہرہ زخموں سے بھرا ہوا تھا۔صحابہ نے کہا ہم کہتے نہیں تھے ہم تیرے بارہ میں ڈرتے ہیں۔انہوں نے کہا اللہ کے دشمن کبھی بھی میرے نزدیک آج سے زیادہ ذلیل نہیں ٹھہرے۔تم اگر چاہو تو کل بھی میں ایسا ہی کروں گا۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسی قسم کی دل آزاری کا ایک اور واقعہ بیان کرتی ہیں کہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے محسن خانہ میں مسجد بنائی تو جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں لوگوں کی دل آزاری ہونے لگی اور وہ شکوہ کرتے ہوئے ابن دغنہ کے پاس پہنچے تو ابن دغنہ حضرت ابو بکر کے پاس آئے۔انہوں نے جو باتیں کیں حضرت عائشہ نے ان کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔فرماتی ہیں۔