خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 113 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 113

خطابات طاہر جلد دوم 113 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۶ء ساز وسامان کے واپس لے جاچکے ہیں اور مجھے بار بار مختلف قسم کی دھمکیاں دیتے ہیں اور بار بار یہی شرط عائد کرتے ہیں کہ اسلام چھوڑ دو، احمدیوں کے پاس آنا جانا ترک کر دو، ورنہ ہم تمہیں سخت سے سخت سزا دیں گے اور تمہارے بیوی اور بچوں کو تا زندگی تمہارے ساتھ نہیں ملنے دیں گے۔اسی طرح انہوں نے مجھے یہ لالچ بھی دیا کہ ہم لوگ تیں، چالیس ہزار روپیہ خرچ کر کے تمہیں دکان اور مکان الگ بنوادیتے ہیں تم عیش سے اپنا کاروبار کرو۔اب تم دھکے کھارہے ہو اور کرائے کی دکان پر رہتے ہو“۔وہ لکھتے ہیں : وو پیارے حضور! میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس کے پاک نام کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری زندگی جانوروں سے بدتر تھی ، اب خدا کی مہربانی ہے کہ اس زمانے کے بچے رشی اور گرو کی تعلیم کے نتیجے میں میری زندگی کی کایا پلٹ گئی اور میں اپنے آپ کو صرف انسان ہی نہیں سمجھتا بلکہ محسوس کر رہا ہوں کہ سچائی کی برکت اور اسلام کے نور سے میرے اوپر آسمان کے دروازے کھل رہے ہیں۔اس لئے اب اگر اسلام کی خاطر میری جان بھی چلی جائے اور یہ لوگ میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر ڈالیں تو مجھے اس کی کچھ پرواہ نہیں ہے“۔پس میں پاکستان کی حکومت کو متوجہ کرتا ہوں کہ ہندوستان میں ایک مظلوم ہندوؤں سے مسلمان ہونے والے مخلص کے جو جذبات ہیں جس طرح اسلام کے نور سے وہ منور ہوا اور جس طرح اس کے دل میں حمد اور شکر کے جذبات پیدا ہوئے اور اسلام کو چھوڑنے کا تصور بھی اس کے لئے مکروہ ہو گیا اور وہ اس بات پر آمادہ ہے کہ جس طرح پہلے وہ بہت کچھ قربان کر چکا اگر اور بھی قربانیاں اس سے مانگی گئیں تو وہ سب کچھ اسلام کی راہ میں پیش کر دے گا۔تو وہ کیسے پاکستان کے احمدیوں سے توقع رکھتے ہیں، جن کا دین آباؤ اجداد سے اسلام چلا آ رہا ہے، جو اسلام کے نور سے ہمیشہ سے وابستہ رہے اور اس کا زیادہ عرفان رکھتے ہیں کہ وہ اس نو مسلم سے بھی بدتر نکلیں گے اور یہ نو مسلم تو اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہوگا اور نعوذ باللہ من ذالک حکومت پاکستان کی دھمکیوں اور جبر اور ظلم وستم