خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 98 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 98

خطابات طاہر جلد دوم 88 98 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء میرے نزدیک یہ بڑے بڑے دنیا کے لوگ اور بااثر لوگ اور حج اور دانشوران سب کی آوازیں ایک طرف اور اس بیوہ کے دل کی پکار ایک طرف اور میں امید رکھتا ہوں کہ یہ آواز پھیلتی چلی جائے گی اور پاکستان کی بستی بستی کی ماؤں کے دل کی آواز بن جائے گی۔وہ اپنے بچوں کو نصیحتیں کریں گی کہ جلدی آگے بڑھو اور احمدیت کی سچائی کو قبول کرو کیونکہ یہ کلمہ گو ہیں اور کلمے کی حفاظت کرنے والے ہیں اور وہ جو کلمے کی حفاظت کا دعوی کیا کرتے تھے ان کی ساری محبتیں ساری غیرتوں کے پول کھل گئے ہیں۔احمدیت کی فتح کے بیج بوئے جار ہے ہیں اور میں آپ کو اس موقعے پر دو باتیں یاد کراتا ہوں۔اپنی خلافت کے بعد پہلے جلسہ سالانہ کی پہلی تقریر کے آغاز میں ہی میں نے یہ کہا تھا کہ احمدیت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جس کی مماثلت اسلام کے اول دور سے ہے اور اسلام کے اول دور میں یہ یہ باتیں ہوئی تھیں اور میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ یہ باتیں آپ کے ساتھ ہوں گی۔پس آپ بلالی دور میں داخل ہوئے ہیں خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ، محمد مصطفی ﷺ کے دور میں داخل ہوئے ہیں۔وہ مسلمان جو اس وقت کلمے کے لئے قربانیاں دے رہے تھے اور ان کی قربانیوں کو آسمان پر بھی قبول کیا اور زمین پر بھی خدا نے ان کو غلبہ عطا فر مایا اس مبارک دور میں آپ داخل ہوئے ہیں۔دوسری بات میں آپ کو یہ یاد دلاتا ہوں کہ جب میں پہلی باہر انگلستان پہنچا تھا تو میں نے آپ کو ایک خواب بھی بتائی تھی ایک احمدی نوجوان کی نوجوان تو نہیں مگر جوانی کی عمر میں ہیں اور میں نے بتایا تھا کہ انہوں نے میرے چلنے سے پہلے ، اُس کا وہم و گمان بھی نہیں تھا۔ان حالات سے پہلے ایک خواب دیکھی کہ میں اکیلا ایک کنواں کھود رہا ہوں اور اتنا انہماک ہے کہ پسینے سے شرابور ہوں اور اپنے کام میں لگن سے مصروف ہوں اور اتنے میں اور لوگ شامل ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور دیکھتے دیکھتے ایک جماعت بن جاتی ہے جو اس کنویں میں میرے ساتھ شامل ہے کھودنے میں اور وہ کنواں گہرا ہوتا چلا جاتا ہے، گہرا ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ایک سرنگ بن کر خانہ کعبہ میں نمودار ہوتا ہے اور وہاں اس موقعے پر وہ دیکھتے ہیں کہ شہد ایک نعمت کے طور پر ، ایک پھل کے طور پر ہم سب کو عطا ہوتا ہے جس کے قطرے لعل و جواہر بنتے چلے جاتے ہیں۔