خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 7 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 7

خطابات طاہر جلد دوم 7 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۲ء لوٹے رات وہاں گزاری ، صبح سحری کے وقت اُٹھے۔جب فجر طلوع ہوئی تو اپنے گھر کے صحن میں کھڑے ہو کر اذان دی۔اذان کی آوازسُن کر ایک بد بخت وہاں پہنچا اور پیشتر اس کے کہ آپ نماز شروع کرتے تیر چلا کر آپ کو اذان دینے کے جرم میں شہید کر دیا۔عبادت سے بھی روکا گیا۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔أَرَعَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَتی (العلق :۱۱،۱۰) کہ تم اس بد بخت کو نہیں دیکھتے کہ جب میرا بندہ یعنی محمد یہ عبادت کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اس کو روکتا ہے۔روایت آتی ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حضرت اقدس محمد نے سجدہ کی حالت میں تھے اور ابوجہل نے آپ کی پیٹھ پراونٹنی کی بچہ دانی پھینک دی تھی اسی حالت میں آپ جب سرنگوں تھے تو آپ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ یہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم نے سجدہ ریز تھے اور آپ کے گرد قریش بیٹھے ہوئے تھے۔عقبہ بن ابی معیط ذبح کردہ اونٹنی کی بچہ دانی لایا اور حضور کی پیٹھ پر پھینک دی۔حضور اس بوجھ سے اپنا سر نہ اُٹھا سکتے تھے اس وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تشریف لائیں اور آپ کی پیٹھ پر سے اس بچہ دانی کو ہٹایا۔حضرت عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ عبداللہ بن عمرو بن عاص سے صلى الله کہا! مجھے ان سختیوں کے بارہ میں کچھ بتاؤ جو آغاز اسلام میں کفار مکہ نے آنحضور ﷺ پر روا رکھیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک دن حضور اکرم یہ کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن معیط آ گیا۔آتے ہی آپ کے کندھے مبارک کو پکڑا اور آپ کی گردن میں کپڑاڈالا اور اس شدت سے گل گھونٹا کہ گویا دم ہی نکل جائے گا۔اس وقت حضرت ابو بکر آگے بڑھے اور عقبہ کے کندھے کو پکڑا اور کہا ا تَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللهُ وَقَدْ جَاءَ كُمْ بِالْبَيِّنَتِ (المومن : ۲۹) کہ اے ظالم ! کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرتے ہو جو صرف یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور اپنی صداقت کے کھلے کھلے نشان لے کر آیا ہے۔مساجد سے بھی آپ کو روکا گیا اور آپ کے غلاموں کو بھی روکا گیا۔مساجد کی تعمیر کھلی جگہوں پر کرنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں تھا اپنے گھروں میں بھی لوگ مساجد تعمیر کرنے سے روکے جاتے تھے۔یہاں تک کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک شخص کی پناہ