خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 84 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 84

خطابات طاہر جلد دوم 84 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۸۵ء ہیں۔لبنانی ذرا خاص طور پر اپنے مذہب میں زیادہ متعصب پائے جاتے ہیں، تو ایک دوست نے سوال شروع کئے اور میں جواب دیتا رہا جس طرح خدا نے تو فیق عطا فرمائی۔ایک دوسرے دوست اپنے بچے کو ساتھ لے کے بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے کوئی سوال نہیں کیا۔بچہ بڑا پیارا سا چھوٹا سا تھا، لیکن میں حیران تھا بڑی توجہ سے باتیں سن رہا تھا اور اس کے چہرے پہ بڑی معصومیت تھی تو میں نے بچے کو بلا کے پیار دیا اور پھر اس کو واپس بھیج دیا۔جب میں جدا ہونے لگا تو وہ آگے بڑھے ملنے کے لئے میں نے ان سے یونہی ، نرم گفتگو ہوتی ہے ہلکی پھلکی ، میں نے کہا! یہ بچہ تو مجھے بہت پیارا لگا ہے کہتے ! آپ کا ہو گیا میں نے کہا! ہاں ہاں میرا۔کہتے ہیں ! نہیں نہیں، آپ نہیں سمجھے۔آپ لے لیں اس کو، میں سچ سچ دے رہا ہوں جسمانی طور پر ابھی رکھ لیں۔کہتے ہیں بالکل آپ غلط سمجھ رہے ہیں، میں محاورۃ نہیں دے رہا یہ آپ کا ہو گیا۔میں نے کہا! بہت اچھا جزاک اللہ مگر میں تو ایک پر راضی ہونے والا نہیں، میں تو بچے کا باپ بھی لوں گا، اس کی ماں ،اس کے بہن بھائی بھی لوں گا،سارا خاندان لوں گا۔انہوں نے کہا! اگر یہ بات ہے وہ سمجھ گئے کہ مذہب کے طور پر، انہوں نے کہا پھر میں معذور ہوں میں یہ کام نہیں کر سکتا۔میں نے کہا ! جزاک الله مگر جب بھی آپ سارا خاندان لے کے آئیں گے تب آئیں میرے پاس۔جب اندر داخل ہوئے تو میرے ساتھ شاید ماجد تھے یا کون، ان سے میں نے کہا کہ آج رات خدا کے فضل سے یہ فیصلہ کر لیں گے اور کل تک احمدی ہو جائیں گے اور دوسرے دن صبح خوشخبری ملی کہ وہ سارا خاندان احمدی ہو گیا ہے اور بڑے مخلص ہیں، محبت کرنے والے ہیں، باقاعدہ رابطہ رکھے ہوئے ہیں اور وہ دوسرے لبنانی جوان کے لئے ہدایت کا موجب بنے تھے وہ بھی ہو گئے اور اور بھی اب مجھے پتا لگا ہے وہاں ہورہے ہیں خدا کے فضل سے غالبا ہو بھی چکے ہیں بعض عرب اور ایک جگہ نہیں ہر جگہ ہورہے ہیں۔شام میں وہاں کے حالات آپ جانتے ہیں مذہبی سختیاں ہیں لیکن وہاں کچھ غلط فہمیاں تھیں جماعت کے درمیان اس کی وجہ سے پوری برکت نہیں تھی، تو چند دن ہوئے ہیں میں نے اپنا نمائندہ مصطفیٰ ثابت کو بھیجا، خط بھی لکھے۔ایک وہاں نواحمدی بڑے مخلص تھے ان کو تاکید کی کہ میرا یہ پیغام پہنچا ئیں چنانچہ ایک دم دلوں کی کیفیت بدلی مصطفیٰ ثابت کہتے ہیں کہ میں تو ہار بیٹھا تھا ، میں واپس مایوس ہو کے آ رہا تھا، میں نے کہا! ان لوگوں کو میں اکٹھا نہیں کر سکتا کہتے ! اچانک ایسی کا یا بیٹی کہ