خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 79 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 79

خطابات طاہر جلد دوم 79 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء داخل ہورہی ہے۔لندن مشن کا ہال دیکھا ہے کتنا چھوٹا سا رہ گیا ہے اور اب یہاں انشاء اللہ تعالیٰ میری تو دعا ہے کہ اسلام آباد بھی بڑی جلدی چھوٹا ہو جائے۔تو جرمنی میں وہاں ہیمبرگ میں بھی زمین دیکھ رہے ہیں۔میونخ میں نئے مشن ہاؤس کے لئے کہہ دیا گیا ہے وہاں بھی خریدا جارہا ہے اور Kiel میں خرید لیا گیا ہے۔تیرہ سو مربع میٹر زمین پر دو منزلہ نہایت عمدہ تعمیر شدہ عمارت دو بڑے ہال اور ساری جماعت کی ضرورتیں وہ کہتے ہیں کہ آئندہ کئی سال تک پوری ہو جائیں گی۔میں نے کہا یہ کوئی خوشخبری نہیں اگلے سال مطالبہ کرو کہ ہماری ضرورتیں نہیں پوری ہور ہیں تب مزہ آئے گا۔ہالینڈ کو بھی کہ دیا ہے کہ وہاں بھی مسجد چھوٹی سی ہوگئی ہے، انہوں نے بھی جگہیں دیکھنی شروع کی ہوئی ہیں۔فرانس میں ایک سودا ہوتے ہوتے اس طرح رہ گیا کہ اتنی اچھی جگہ تھی کہ کمیٹی نے کہا کہ ہم نے لینی ہے چنانچہ اللہ ہمیں اور دے دے گا اس میں بھی حکمت ہوگی، انشاء اللہ بہتر جگہ مل جائے گی۔سپین میں غرناطہ میں مسجد کی زمین کے لئے کوشش کی جارہی ہے، ایک ہوٹل مل رہا تھا مگر اس پہ تو ابھی پوری طرح طبیعت رضامند نہیں۔میرا خیال ہے اپنی زمین خرید کر ایک نئی شاندار مسجد وہاں بنائیں، خدا کے فضل کے ساتھ۔گلاسگو میں ایک دو منزلہ بہت بڑی عمارت بہت تھوڑی قیمت پر مل گئی ہے اور تعجب کریں گے آپ دیکھ کر کتنی عمدہ جگہ اور اتنی بڑی عمارت اور کتنی ستی مل گئی اور جماعت نے خدا کے فضل سے بڑی محنت اس پر شروع کر دی ہے۔وقار عمل بھی ہورہے ہیں ، دوسرے کام بھی ہورہے ہیں اور گلاسکو والے کہتے تھے کہ ہماری ضرورتیں انگلی تھیں چالیس سال کی پوری کرے گی اتنی بڑی عمارتیں ہیں۔بعض کہتے تھے یخلخل لفافہ ساہم کریں گے کیا، ہم تو چند آدمی ہیں؟ میں نے کہا! کرو گے یہ کہ سوئے ہوئے ہو تو میں تمہیں جگاؤں گا اب، میں کہوں گا کہ بھر و اس عمارت کو اب اور اب تمہیں نکمے نہیں بیٹھنے دینا اور خدا کا جو سلوک پہلے ہوتا رہا ہے وہ اب بھی ہوگا، انشاء اللہ تعالیٰ یہ عمارت بھی اللہ کے فضل سے چھوٹی ہو جائے گی ،فکر کی بات نہیں ہے۔سورینام میں دونئی مساجد تعمیر ہوئی ہیں۔امریکہ میں پانچ مراکز کی سکیم تھی اور اس میں بھی جماعت نے بڑی قربانی کا مظاہرہ کیا۔کل وعدہ جات 22,047 ڈالر تھے اور پاکستانی روپوں میں 13,52,66,000 اس کی قیمت بنتی ہے پچھلے سال انہوں نے ۸۴ء سے پہلے سال کچھ ادا کیا،