خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 71
خطابات طاہر جلد دوم 71 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۸۵ء ایک بڑا اچھا رسالہ لا ہور نکلتا ہے، اس کے بھی دشمن ہو گئے۔الفضل ضبط کر بیٹھے، ریویو ضبط کر بیٹھے، خالد ضبط کر لیا، تشحیذ ضبط کر لیا پھر خیال آیا کہ ابھی پورا نہیں ہوا چلو پر لیس بھی ضبط کرلو ساتھ ہی ، پہلے کتابیں ضبط ہورہی تھیں پھر یہ ساری چیزیں ضبط کر لیں۔وہی حال ہے، وہ لطیفہ میں نے پہلے بھی سنایا تھا کہ ایک اندھا اور ایک سمجھا کا، دیکھنے والا بصیر انسان دونوں نے مل کر حصہ ڈال کے کھیر پکائی یا حلوہ پکایا اور جوکھانا شروع کیا تو اندھے کو خیال آیا کہ حصہ تو برابر کا ہے لیکن یہ دیکھتا ہے مجھے پتا کوئی نہیں تیز نہ کھا رہا ہو کہیں، تو اس نے کہا اچھا مجھے بھی تیز کھانا چاہئے ، اس نے تیز کھانا شروع کر دیا اور پھر خیال آیا کہ یہ تو دو ہاتھوں سے کھا رہا ہوگا مجھے کیا پتا؟ اس نے دو ہاتھوں سے کھانا شروع کر دیا۔پھر تھوڑی دیر کے بعد اس نے سوچا کہ اب تو مجھے پتا ہی نہیں لگ رہا کہ اور کیا ترکیب کی ہے تو پورے ہاتھ ڈال کے پوری پلیٹ اٹھائی کہ میاں باقی میرا حصہ ہے۔تو انہوں نے کہا کہ ساری پہلے کتا بیں ضبط کیں، رسالے ضبط کرنے شروع کئے اور پھر Ban کر دیئے تو پتا نہیں اب احمدی اور کیا کر رہے ہوں گے؟ تو پریس بھی ضبط کر لئے کہ باقی ہمارا حصہ ہے۔لیکن احمدیت کی آواز تو نہیں رکی، احمدیت کی آواز تو زیادہ شدت کے ساتھ پھیلی بستی بستی، نگر نگر ، احمدی نے نئے ولولوں سے سرشار ہو کر نئے جذبات خدمت سے لبریز ہوکر قربانیوں کا عزم کرتے ہوئے ، قید کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہوئے اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو ذلیل بتاتے ہوئے بڑی جرات کے ساتھ تبلیغ کی ہے اور احمدیت کا پیغام بستی بستی پہنچایا ہے۔جہاں تحریر نہیں پہنچ سکتی تھی وہاں کیسٹوں کے ذریعے پیغام پہنچایا ہے، جہاں خود مل سکتی تھی توفیق وہاں خود پیغام پہنچایا ہے۔عدالتوں میں حاضر ہوئے اور جوں کو بھی تبلیغ کی ہے، پولیس نے پکڑا ہے تو پولیس کو تبلیغ کی ہے، جیل میں پہنچے ہیں تو مجرموں کو تبلیغ کی ہے یو نفتی سنت کو زندہ کیا ہے۔اس جماعت کا پیغام کون روک سکتا ہے؟ جو حربے تھے تم نے سارے استعمال کر لئے لیکن آج بھی خود رور ہے ہو کہ احمدیت پہلے سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلنی شروع ہوگئی ہے۔ہندوستان میں مانگ زیادہ ہوئی، چونکہ ہندوستان کے وسائل تھوڑے تھے اور بعض وہاں صاحب وسیلہ لوگ ہیں بھی لیکن ابھی تک ان کے اندر اتنا حوصلہ پیدا نہیں ہوا جتنا باقی دنیا کی جماعتوں میں ہو چکا ہے اس لئے اللہ ان کے بھی دل زندہ کرے، ان کو بھی حو صلے دے، زیادہ روپیہ خدا کی راہ