خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 516 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 516

خطابات طاہر جلد دوم 516 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2001ء کا تعلق ہے ہر احتیاط اختیار کرنا انسان کا فرض ہے۔پھر اپنے معاملے کو تقدیر الہی پر چھوڑ دے۔اس کے بعد ایک آخری نصیحت یہ کرنی چاہتا ہوں کہ جرمنی میں امسال پہلی دفعہ انٹرنیشنل جلسہ سالانہ کا انعقاد ہوا ہے اور بڑی کثرت سے بیرونی ممالک سے لوگ تشریف لائے ہوئے ہیں۔ان میں اکثر کے متعلق جو باہر سے تشریف لائے ہیں مجھے یقین ہے کہ وہ واپس اپنے ملکوں کو جائیں گے۔خصوصاً مغربی ممالک سے جو آئے ہوئے ہیں ان کو کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ جرمنی میں ٹھہریں اور جہاں تک پاکستان سے آنے والوں کا تعلق ہے میں نے اپنی ملاقاتوں کے دوران ان سے دریافت کیا ہے بلا استثناء ہر ایک نے یہ کہا کہ ہم جلسہ کے بعد واپس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔تو یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ جماعت کو اس بات کا احساس ہے۔مگر اگر کسی کے دماغ میں یہ فتور ہو کہ ویزا میں نے اپنی کوشش سے حاصل کیا ہے اور میں یہاں رہ کر اسائکم لے سکتا ہوں تو یہ بالکل غلط ہے۔ہرگز جماعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔خواہ وہ اپنی کوشش سے لیا گیا ہو یا جماعت کی گارنٹی سے لیا گیا ہو جو بھی جرمنی میں اس سال اس جلسہ پر آیا ہے اس کا لازمی فرض ہے کہ وہ جلسہ کے بعد اپنی قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے واپس اپنے ملک میں چلا جائے۔جتنے دنوں کی اجازت ملی ہے جرمن حکومت کی طرف سے یہ حکومت کا احسان ہے اور اس احسان کی ناشکری ہرگز نہ کریں کیونکہ اس سے جماعت کے وقار کو اور نیک نامی کو بہت دھچکا لگتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ہونا چاہئے مگر اگر خدانخواستہ فرض کریں اتفاق سے کوئی ایسا حادثہ ہو جائے تو اس کے لئے میرے پاس اور تو کوئی ذریعہ نہیں صرف یہ کہ سکتا ہوں کہ یا جرمنی سے چلے جاؤ یا جماعت سے باہر چلے جاؤ اور ایسے موقعہ پر جب کہ جماعت کی ساکھ کا سوال پیدا ہوتا ہے اگر آپ جرمنی سے باہر نہیں جائیں گے تو ہمیشہ کے لئے جماعت سے باہر نکلیں گے۔بعد میں اس کی معافیاں مانگنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اس صورت میں ہم ہرگز معاف نہیں کریں گے کہ آپ نے حکومت کو دھوکہ دیا اور جماعت کی ساکھ بگاڑ دی۔اب اس مختصر خطبہ کے بعد میں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔(دعا) امین