خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 508
خطابات طاہر جلد دوم 508 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2001ء صاحب حکمت ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی تشریح میں فرماتے ہیں۔زمین کے پات پات اور ذرہ ذرہ کی نسبت قرآن شریف میں موجود ہے کہ ہر ایک چیز اُس کی اطاعت کر رہی ہے، ایک پتا بھی بجز اُس کے امر کے گر نہیں سکتا اور بحجز اُس کے حکم کے نہ کوئی دوا شفا دے سکتی ہے اور نہ کوئی غذا موافق ہوسکتی ہے“۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۳۲) اب یہ جو سوال ہے کہ ایک پتا بھی بغیر اس کے حکم سے گر نہیں سکتا اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ہر پتا کوگرنے کا حکم ملتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ ہر پتا خدا تعالیٰ کی تقدیر کے تابع ہے اور اس کے اندر جو بھی کمزوری پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں وہ آخر گر جاتا ہے وہ ایک قانون قدرت کے تابع ہے جس کو وہ ٹال نہیں سکتا۔پس ہر پتا اسی کے حکم کے مطابق یا اس کی اجازت کے ساتھ گرتا ہے، اسی کے قانون کے تابع ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔کوئی دوا شفا نہیں دے سکتی جب تک اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہو۔کوئی غذا موافق نہیں ہو سکتی جب تک اللہ کی مرضی نہ ہو۔اب دیکھیں کتنی اچھی سے اچھی غذائیں ہیں بعض لوگوں کو موافق ہی نہیں آتیں۔بعض لوگ بے حد امیر اور اعلیٰ سے اعلیٰ غذاؤں کو خرید کر استعمال کرنے کی طاقت رکھتے ہیں مگر معدہ ہی اجازت نہیں دیتا۔صرف وہی پر یا اُبلے ہوئے چاولوں پر گزارہ کر لیتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ اس کی تخلیق میں سے جتنی بھی کھانے کی چیزیں ہیں جب تک اذن نہ ہو اُس وقت تک کوئی شخص ان سے پورا استفادہ نہیں کر سکتا اور ان کا لطف نہیں اٹھا سکتا، اپنے زور سے نہیں کر سکتا۔ایک آدمی بیمار ہو جائے تو وہ انگور جولوگوں کے لئے بہت نعمت سمجھے جاتے ہیں وہ اس کی متلی کا موجب بن جاتے ہیں۔وہ برداشت ہی نہیں کر سکتا۔انگور کا نام تک لو تو اس کو گھبراہٹ شروع ہو جاتی ہے تو یہ سب خدا تعالیٰ کی شان ہے کہ اس کے اذن اور حکم کے بغیر اس کی پیدا کردہ غذائیں اپنی ساری لذتیں کھو دیتی ہیں جب اللہ تعالیٰ کا اذن نہ ہو اور ساری لذتیں بحال ہو جاتی ہیں جب اللہ کا اذن ہو۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” پہاڑوں اور زمین کا ذرہ ذرہ اور دریاؤں اور سمندروں کا قطرہ