خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 503
خطابات طاہر جلد دوم 503 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2001ء تھی اور اسی ذمہ داری کے متعلق قرآن کریم اشارہ کرتا ہے کہ أَنْقَضَ ظَهْرَكَ (الم نشرح ۴) اس ذمہ داری نے تیری کمر توڑ دی ہے۔اتنا بوجھ تو نے اٹھا لیا اپنے سر پر۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کامل قومی کا مالک تھا۔صلى الله اب رسول اللہ ﷺ اور آپ کی جماعت کی طرف غور کرو تو پھر کیسا روشن طور پر معلوم ہوگا کہ آپ ہی اس قابل تھے کہ محمد نام سے موسوم ہوتے اور اس دعوی کو جیسا کہ زبان سے کیا گیا تھا کہ اِنِّي رَسُولُ اللهِ اِلَيْكُمْ جَمِيعًا اپنے عمل سے بھی کر کے دکھاتے۔چنانچہ وہ وقت آگیا کہ اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا اس میں اس امر کی طرف صریح اشارہ ہے کہ آپ اس وقت دنیا میں آئے جب دِین اللہ کو کوئی جانتا بھی نہ تھا اور عالمگیر تاریکی پھیلی ہوئی تھی اور گئے اس وقت کہ جبکہ اس نظارہ کو دیکھ لیا کہ یدْخُلُونَ فِي دِيْنِ اللَّهِ أَفْوَاجًا “۔( الحکم ۷ ارجنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۳) تو انشاء اللہ آنحضرت ﷺ کے قدموں کی برکت سے آپ بھی اس جلسہ کے اختتام پر یہی نظارہ ایک دفعہ پھر دیکھیں گے کہ يَدْخُلُونَ فِی دِینِ اللهِ أَفْوَاجًا گویا فوج در فوج لوگ دین اللہ یعنی حقیقی اسلام میں داخل ہو رہے ہوں گے۔ایک اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اقتباس ہے۔آنحضرت ﷺ کے ظہور کے وقت تبلیغ عام کا دروازہ کھل گیا تھا اور آنحضرت ﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے بعد نزول اس آیت کے کہ قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ اِلَيْكُمُ جَمِيعَا دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کی طرف دعوتِ اسلام کے خط لکھے تھے ، کسی اور نبی نے غیر قوموں کے بادشاہوں کی طرف دعوت دین کے ہرگز خط نہیں لکھے کیونکہ وہ دوسری قوموں کی دعوت کے لئے مامور نہ تھے۔یہ عام دعوت کی تحریک آنحضرت ﷺ کے ہاتھ سے ہی شروع ہوئی“۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ: ۷۶۔۷۷)