خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 452
خطابات طاہر جلد دوم 452 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1998ء نکھیں ممتاز نظام جماعت احمدیہ کو عطا ہوا ہے۔ہر احمدی سے توقع ہے کہ وہ آنکھیں کھول کر چلے ، آ کھول کر بیٹھے، آنکھیں کھولنے سے مراد یہ ہے کہ نگران رہے اور جہاں بھی اس کو کسی قسم کا ایسا آدمی دکھائی دے جس سے وہ سمجھے کہ خطرے کا احتمال ہے اس کے متعلق اگر وہ کچھ دیر اس کے ساتھ جا سکے تو بہتر ورنہ رستے میں جو تظمین دکھائی دیں ان کو بتا دے کہ فلاں شخص ہمارے خیال میں ایسا ہے کہ اس سے خطرہ ہو سکتا ہے لیکن اس کو خود کچھ کہنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔نیز جب بھی جلسہ میں بیٹھیں کہ اب بیٹھے ہوئے ہیں تو اپنے دائیں بائیں کا خیال کریں قطع نظر اس کے کہ آپ کے نزدیک کوئی شخص قابل اعتماد ہے یا نہیں ہے، آپ اسے جانتے ہیں یا نہیں۔یہ اصول بنالیں کہ دائیں بائیں ہلکی مخفی نظر ڈالتے رہیں۔اکثر خطرے ان لوگوں سے درپیش آیا کرتے ہیں جن پر اطمینان ہوا کرتا ہے اکثر خطرات ان سے ظاہر ہوتے ہیں جن کے متعلق نہ صرف حفاظت کے افسران کو بلکہ ساتھ بیٹھے ہوئے آدمیوں کو بھی پورا اطمینان ہوتا ہے کہ ان سے کسی قسم کا کوئی خطرہ ہوہی نہیں سکتا۔ایسے ہی لوگ ہیں جو خطرے کا موجب بنا کرتے ہیں۔اس لئے بدظنی کا سوال نہیں ، ہوشیاری کا سوال ہے۔کسی پر بدظنی نہ کریں مگر ہر ایک سے ہوشیار رہیں۔یہ چند مختصر باتیں ہیں جو میں عمومی طور پر آج آپ کے سامنے رکھنا چاہتا تھا۔اب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند حوالے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ان میں جو نصیحتیں فرمائی گئی ہیں اور دعائیں دی گئی ہیں وہ مسافروں اور مقیموں پر برابر چسپاں ہوتی ہیں۔ان کے علاوہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند الہامات بھی رکھوں گا جن کا تعلق ۱۸۹۸ء سے ہے۔پس جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ دیکھا گیا ہے کہ جو الہامات انیسویں صدی میں ہوئے تھے کم و بیش ویسے ہی واقعات بیسویں صدی میں بھی ظاہر ہورہے ہیں ، یہ سلسلہ خصوصیت سے ۱۹۸۲ء سے میں نے محسوس کیا اور بار بار اپنی تقاریر میں جماعت کو متوجہ کرتا رہا ہوں کہ مثلاً ۱۸۸۲ء میں یہ الہام ہوا تھا اور ۱۹۸۲ء پر دو الہامات چسپاں ہورہے ہیں۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ ۱۸۹۸ء میں جو الہامات ہوئے تھے ان کی خوشخبریاں ہم تک پہنچیں گی اور میں امید رکھتا ہوں کہ جن خطرات کے بارہ میں وحی فرمائی گئی ہے جہاں تک ممکن ہو ہم دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان خطرات کو ٹال دے۔