خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 438
خطابات طاہر جلد دوم 438 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء ”مرزا قادیانی بھی امروز وفردا کا مہمان ہے۔بکری کی ماں کب تک خیر مناسکتی ہے۔پس مرزا قادیانی کو خبر دار ہنا چاہئے کہ وہ بھی بقر عید کی قربانی نہ ہو جاوے۔“ سارے ہندوستان میں احمدیت آریوں کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتی تھی جبکہ آریوں کے ساتھ تمام ہندو قوم شامل ہو چکی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دستور یہ تھا کہ بغیر پہریدار کے ، آج میرے ساتھ تو آپ پہریدار دیکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کوئی پہریدار مقرر نہیں تھے۔آپ اُسی طرح صبح کی سیر کو جاتے ،اسی طرح واپس آتے۔اکیلے گھر میں ، گھر کے دروازوں پر کوئی نگہدار، کوئی نگہبان مقرر نہیں تھا اور تن تنہا سارے سفر کرتے تھے اور ان ساری دھمکیوں کو آپ ذرا بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے ساتھ حفاظت کا وعدہ تھا۔ہندوؤں کی طرف سے بہت سے اشتہار شائع کئے گئے اور انعام مقرر کئے گئے کہ کسی طرح اُس قاتل کو ڈھونڈ و وہ کون ہے؟ اُس کا ماضی کیا ہے؟ وہ کہاں چلا گیا ؟ اور اس ضمن میں بعض خبر یں دی گئیں۔یہاں تک کہ کشمیر سے بھی لوگ پکڑ کے لائے گئے اور دور دور سے اس جیسے میں کہ یہ وہ شخص ہے جس کا نہ سر نہ پیر ، بعید نہیں کہ یہی قاتل ہو۔ان کو پولیس نے پکڑا اور حاضر کیا تو اُس وقت ماں اور بیوی جنہوں نے قاتل کو دیکھ لیا تھا۔انہوں نے گواہی دی کہ ہرگز یہ وہ نہیں۔اس کی شکل اُس سے نہیں ملتی۔تو خدا تعالیٰ نے ایک ایک چیز کا انتظام کر رکھا تھا ، وہ کون تھا ؟ کہاں سے آیا کہاں چلا گیا ؟ کسی کو کوئی خبر نہیں۔لیکن ان دھمکیوں کے ساتھ بعض مسلمان علماء تھے جو خاموش ہو گئے۔ان کو یہ تو ہمت نہیں پڑتی تھی کہ اس کی تائید میں اٹھ کھڑے ہوں۔ان کو پتا تھا کہ سارے مسلمان پھر یہ نشان دیکھ کے احمدی مسلمان ہو جائیں گے لیکن ان میں سے بعض مخالف ایسے تھے جنہوں نے خفیہ پیغام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھجوائے کہ ایک آپ ہی تو ہیں جولڑے صلى الله ہیں رسول اللہ ﷺ کی عزت کی خاطر اور آپ کو خطرہ ہے اس لئے اس خطرہ میں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ہم آپ کو متنبہ کرتے ہیں کہ اپنے لئے ساری احتیاطیں برتیں۔ہر قسم کی احتیاطی کارروائی لي کریں۔پہریدار مقرر کریں۔وغیرہ وغیرہ۔بہت سے مشورے دیئے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کسی مشورے کو قبول نہ کیا اور اپنی زندگی اور طرز بود وباش میں کوئی بھی تبدیلی نہ کی وہی اکیلے تن تنہا کبھی صبح جلدی سے سیر کو نکل جانے والے تھے یہاں تک کہ