خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 424
خطابات طاہر جلد دوم 424 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء مرکزی دفاتر کو میری وساطت سے ملتے ہیں مگر میرے نزدیک ان بارہ ہزار خطوط کی قیمت ان دو لاکھ سے بہت زیادہ ہے، کیونکہ میرے ساتھ یہاں کثرت سے ایک ٹیم ہے جو خواتین پر بھی مشتمل ہے، مردوں پر بھی اور بعض بچے بھی اُس میں حصہ لیتے ہیں اور طوعی طور پر یہ خدمت سر انجام دے کر مجھے یہ موقع بہم پہنچارہے ہیں کہ ایک سال میں تقریباً دولاکھ خطوط کو وصول کروں اور اُن کے جواب دوں لیکن اُس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اکیلے یہ کام تھا۔ساری تصانیف ایک طرف ، دنیا کے سارے کام ایک طرف اور پھر ان خطوط کی طرف توجہ۔سال ۱۸۹۷ء میں مہمانوں کی بھی کثرت رہی اور یہ تعداد سال بھر میں ڈیڑھ ہزار سے کسی صورت کم نہ تھی۔اُس زمانہ میں ڈیڑھ ہزار مہمانوں کو سنبھالنا ایک بڑا کام تھا۔جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اکثر مہمانوں کی طرف خود توجہ دیا کرتے تھے۔بسا اوقات اپنے گھر سے کھانا پکوا کے لاتے تھے۔بسا اوقات خود دودھ لے کر باہر مہمانوں کی خدمت کے لئے آیا کرتے تھے ، بسا اوقات سردی زیادہ ہو تو اپنا لباس ، اپنا اوڑھنا یعنی کوٹ اُتار کے وہ بھی بھیج دیا کرتے تھے۔کوٹ کی نوبت اس لئے آتی تھی کہ اُس سے پہلے گھر کے تمام بستر مہمانوں کے لئے جاچکے ہوتے تھے۔تو اُس زمانہ میں ڈیڑھ ہزار مہمانوں کی دیکھ بھال کرنا جس میں اوّل ذمہ داری خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تھی ایک بہت بڑا کام تھا۔اب تو سارا انگلستان اس مدد میں ہمارے ساتھ حاضر ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جس گھر کے سپر د جو ذمہ داری کی جائے وہ شوق سے امنا اور صدقنا کہتے کہتے آگے بڑھتا ہے اور خوشی محسوس کرتا ہے کہ ہمیں کچھ خدمت کی توفیق ملی۔۱۸۹۷ء کے سال میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دو اہم سفر کرنے پڑے اور ۱۹۹۷ ء کے سال میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے بھی بہت کثرت سے سفر کرنے کی توفیق ملی ہے۔۱۸۹۷ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پہلا جلسہ ڈائمنڈ جو بلی کی تقریب پر ہوا۔دوسرا جلسہ محمود کی آمین پر مشتمل تھا اور تیسر اوہ آخری جلسہ ہے جس کی میں بات کر رہا ہوں۔اس سال خدا تعالیٰ کے فضل سے مختلف ممالک میں جو جلسے ہوئے ، جن میں بعض دفعہ میں ایم۔ٹی۔اے کے ذریعہ شامل ہوا ہوں۔اُن کی بہت بڑی تعداد ہے مگر یہ میرے نزدیک ۱۸۹۷ء کی برکتیں ہی ہیں ، جو ۱۹۹۷ء میں دہرائی جا رہی ہیں اور خدا تعالیٰ یہ ظاہر فرما