خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 39 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 39

خطابات طاہر جلد دوم 39 38 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء 85 جماعتوں میں بھجوانا پڑتا تھا۔بسا اوقات یہ ہوا ہے کہ یہ آئے ہیں، ریکارڈ کیا ہے اور پھر ساری رات بیٹھے رہے ہیں جب تک انہوں نے صبح تک جماعتوں کے نام یہ ویڈیوز یا ٹیسٹس پوسٹ نہیں کر دیں اس وقت تک انہوں نے آرام نہیں کیا اور شروع میں تو کیسٹس زیادہ تھیں پھر آرام کا وقت بھی نہیں رہتا تھا، پھر سیدھا اپنے کاموں پر چلے جایا کرتے تھے اور آج بھی یہ ہورہا ہے۔خطبات 72 گھنٹے کے انہوں نے ریکارڈ کئے اور تقسیم کئے، دیگر خطابات اور جلسے اور درس 69 گھنٹے کے انہوں ریکارڈ کئے اور تقسیم کئے اور دورہ یورپ جو کیا تھا اس میں 60 گھنٹے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ انہوں نے ریکارڈنگ کی اور پھر اس کو تقسیم کیا۔آج جو جلسہ سالانہ کا انتظام ہے یہ بھی اسی طوعی انتظام کے تابع ہو رہا ہے اور گزشتہ پندرہ بیس دن سے کم سے کم ، ویسے تو کئی مہینے سے یہاں یہ اس کام میں مصروف ہیں اور منصوبے بنا رہے ہیں لیکن گزشتہ پندرہ ، ہمیں دن سے تو حالت یہ ہے کہ بعض دفعہ مجھے ڈر ہوتا تھا کہ کہیں کام میں بے ہوش ہو کے نہ کوئی جاپڑے۔خود یہاں انہوں نے کھدائی کی ہے، زیر زمین تاریں بچھائی ہیں، پلاٹنگ کی ہے، سامان حاصل کیا ہے، یہ سارا انتظام نہایت عمدگی کے ساتھ چلایا ہے۔ایک شعشہ بھی اس میں Professional سے انہوں نے خدمت نہیں لی کیونکہ اس پر خرچ ہوتا تھا اور از خود ساری پلاننگ اور سارا کام ان نو جوانوں نے کیا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ۔پھر اس میں ہمارے پرانے دوستوں کا گروپ فرخ صاحب اور ان کے ساتھی بھی پاکستان سے پہنچ گئے اور انہوں نے یہ جو Interpretation کا انتظام ہے یہ بھی سنبھالا اور دوسری خدمات میں بھی ان کا ہاتھ بٹایا۔شعبہ حفاظت کے لئے وہاں ایک بڑا عملہ تھا۔آپ جانتے ہیں اور یہاں تو میرے ساتھ صرف ایک مبارک ساہی صاحب آئے تھے، یہ تیسرا نام تھا جو میں پہلے بتانا بھول گیا۔تو انہوں نے بھی اللہ کے فضل سے اکیلے ہی بڑا لمبا عرصہ ساری ذمہ داریوں کو اس رنگ میں نبھایا کہ تمام طوعی رضا کار منظم کرنے ، ان سے کام لینا یہ ان کی ذمہ داری تھی اور یہ خود بھی طوعی رضا کار ہیں۔رضا کار کے طور پر آئے تھے اور انہوں نے مڑ کے دیکھا نہیں، پتا بھی نہیں کیا کہ میری نوکری کا کیا بنا، کیا جاکے کروں گا۔کچھ انتظام کیا ہے تو جماعت نے اپنے طور پر کیا ہے، کبھی ایک لفظ کا بھی مطالبہ نہیں کیا۔تو یہ کیفیت تھی ساری جماعت کی اور یہی کیفیت ہے خدا کے فضل کے ساتھ اور یہاں کی