خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 409 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 409

خطابات طاہر جلد دوم 409 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1996ء آپ کی تو جہات کا مرکز اور سے اور چیزیں بنتی چلی جارہی ہیں، اگر تجارتیں ہیں جو ایسے غالب آ جاتی ہیں کہ ہمیشہ ان کے گھٹنے کا خوف آپ کے لئے جان لیوا بنتا رہتا ہے اور ان کے بڑھنے کی تمنا آپ کی حرص کو بڑھاتی چلی جاتی ہے۔تو یا درکھیں آپ بت پرست ہیں اور یہ بت وہ ہیں جو آگے اور بتوں کو پیدا کرتے چلے جاتے ہیں، نہ ختم ہونے والا بتوں کی پیدائش کا ایک سلسلہ ہے جو جاری ہو جاتا ہے اور جب آپ بت توڑنے لگتے ہیں تو پھر یہ واپسی کا سفر ہوتا ہے جوتو حید کی طرف ہے۔پس باشعور طور پر آپ کو توحید کی طرف سفر اختیار کرنا ہوگا۔بیرونی بتوں کو بھی توڑ نا ہوگا جو آفاقی بت ہیں اور انفسی بتوں کو بھی ، اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فصاحت و بلاغت کا کمال ہے کہ نفسی نہیں فرمایا انفسی فرمایا ہے کیونکہ انفسی بت محبت کے تعلقات کے بت ہوتے ہیں کبھی وہ اپنی ذات سے ہوتے ہیں، کبھی اپنے محبوب کی نسبت سے وہ انفسی بت بن جاتے ہیں اور کئی قسم کے انفسی بت ہیں جو بچے بھی ہیں، بیویاں بھی ہو سکتی ہیں ، خاوند بھی ہو سکتے ہیں، بھائی بھی بن جاتے ہیں اور اپنے رومانی محبوب یا فرضی معشوق ہیں ان سب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام انفسی بت کہہ رہے ہیں۔پس فرماتے ہیں جب ان سے وجود خالی ہوگا تو پھر تم دیکھو گے کہ تب وہ نور جو خدا کی توحید کا نور ہے وہ تمہارے دلوں میں تمہارے ذرے ذرے میں سرایت کر جائے گا۔پہلے انخلاء کا دور ہے لا الہ کا دور ہے پھر اِلَّا اللہ کا دور شروع ہوتا ہے لیکن پہلے بھی میں آپ کو سمجھا چکا ہوں اس خیال سے آپ دلبر داشتہ نہ ہوں مایوس نہ ہوں کہ بہت لمبا سفر ہے اور زندگی کے دن تھوڑے ہیں اور پتا نہیں کہ ہم کب مر جائیں اور ہماری طاقت محدود ہے، ہماری تمنائیں زیادہ شدید ہیں اور ایک مدت سے ہمیں غیر اللہ کی غلامی کی عادت پڑ چکی ہے کیسے ان غلامی کی زنجیروں کو تو ڑ کر خدا کی غلامی کی زنجیریں پہنیں گے؟ جو در حقیقت ہر دوسری غلامی سے آزاد کرنے والی زنجیریں ہیں۔اس خوف سے مرعوب ہوکر ، خوف زدہ ہو کر سفر کے ارادے ترک نہ کریں کیونکہ یہ وہ سفر ہے جو ہر حال میں گناہ کے انتہائی مقام سے بھی شروع ہوسکتا ہے۔وہ مثال بھی میں آپ کے سامنے بار ہا رکھ چکا ہوں جو آنحضرت ﷺ نے ہمارے سامنے بیان فرمائی، اس کا مرکزی نقطہ یہی تھا۔ایک ایسا شخص تھا جو اتنے گناہ کر چکا تھا کہ ان گناہوں سے