خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 410 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 410

خطابات طاہر جلد دوم 410 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1996ء بڑھ کر اضافے کا کوئی تصور اس کو نہیں آتا تھا۔وہ تلاش بھی کرتا تو سوچ نہیں سکتا تھا کہ ان پر میں کیسے اب کسی گناہ کا اضافہ کر سکوں۔تب اسے واپسی کا خیال آیا تب اس کے دل میں بے قراری پیدا ہوئی کہ میں مرنے سے پہلے پہلے ایسی توبہ کرلوں کہ خدا تعالیٰ یہ سارے گناہ بخش دے۔ایک کے بعد دوسرے بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہر بزرگ نے اسے مایوسی کا پیغام دیا اور کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے اس حد تک جانے کے بعد واپسی ممکن نہیں۔مگر آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں پھر بھی اس کی واپسی ممکن تھی۔یہ ایک ایسا مضمون ہے جو بارہا آپ کو سنا چکا ہوں اور بالآخر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بدیوں کے شہر سے نیکیوں کے شہر کی طرف ہجرت شروع کر دیتا ہے۔یہی مضمون ہے جو میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں بت شکنی کا دور لمبا ہے اور پتا نہیں ہماری عمر کتنی ہے، ہم زندگی میں اپنے سارے بت تو ڑ بھی سکیں گے کہ نہیں اور ہر ٹوٹے ہوئے بت کی جگہ خدا کی توحید کا کوئی نور جگہ بنائے گا کہ نہیں بنائے گا ؟ آپ کے لئے یہ خوشخبری کا پیغام ہے کہ وہ شخص جس کی مثال آنحضرت ﷺ نے دی وہ ابھی نیکیوں کے شہر سے بہت دور تھا کہ رستے میں اس کی واپسی کا حکم آ گیا لیکن آخری دم تک کہنیوں کے بل، الٹا اوندھے لیٹا ہوا ، وہ سرکتا ہوا نیکیوں کے شہر کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا رہا یہاں تک کہ قضاء کے فرشتے نے اسے آلیا۔تب خدا نے فرشتوں کو حکم دیا کہ یہ میری طرف حرکت کر رہا تھا، بدیوں کے شہر سے نیکیوں کی طرف حرکت توحید کی طرف حرکت ہے۔اس کا فیصلہ میں ایسے کروں گا کہ تم ان دو شہروں کے درمیان فاصلے ناپو، نیکیوں کے شہر کا فاصلہ مرتے وقت جہاں اس نے دم تو ڑا ہے جہاں اس کا جسم گرا اور خاک ہوا اس جسم سے اس شہر کا فاصلہ کتنا تھا جو نیکیوں کا شہر تھا یعنی نیکیوں کا شہر مراد ہے نیکیوں کی طرف حرکت کرتے ہوئے کامل طور پر نیک ہو جانا اور پھر وہ فاصلہ نا پو جو بدیوں کے شہر سے تھا اگر یہ ایسی حالت میں مرا ہے کہ بدیوں کے شہر کے قریب تر تھا تو پھر بے شک یہ جہنم کا سزاوار ہوگا لیکن اگر ایسی حالت میں جان دی ہے کہ نیکیوں کے شہر کے قریب تر تھا تو پھر اس پر جنت واجب ہو جائے گی اور یہ حکم دے کر اللہ تعالیٰ نے یہ حیرت انگیز رحمت کی تقدیر دکھائی کہ فرشتوں کے وہ گز جو بدیوں کی طرف کی سمت ناپ رہے تھے چھوٹے ہو گئے اور اتنے چھوٹے ہوئے کہ وہ فاصلہ ختم ہونے میں نہیں آتا تھا۔جیسے ایک گز کو ایک ملی میٹر میں آپ تبدیل کر دیں تو ایک گز کا فاصلہ طے کرنے میں کتنے ملی میٹر استعمال ہوں گے غرضیکہ وہ فاصلہ اتنا دور کا دکھائی دینے لگا جیسے وہ ختم ہونے میں نہیں آتا